سوال 6958

السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ
شیخ محترم سوال ہے کہ حدیث میں آتا ہے، جب رمضان المبارک آتا ہے تو شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے
اب سوال یہ ہے کہ غزوہ بدر میں شیطان جو سراقہ بن مالک کی شکل میں آیا تھا وہ کونسا شیطان تھا؟

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
جہاں جکڑنے کا ذکر آتا ہے، وہیں مردۃ الجن (سرکش شیاطین) کے قید کیے جانے کا بھی بیان ملتا ہے۔ یہ شیاطین کی ایک خاص قسم ہوتی ہے، جو زیادہ باغی اور سرکش ہوتی ہے۔ ان کی حقیقت، تعداد اور درجات کیا ہیں یہ سب اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ ہمارا تقاضا یہی ہے کہ سمعنا واطعنا کے مطابق اس پر ایمان لایا جائے۔
البتہ ابلیس آزاد تھا اور آزاد ہے، کیونکہ اس نے خود کہا تھا:

“أَنظِرْنِي إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ”۔

غزوۂ بدر کے موقع پر بھی وہی آیا تھا، جیسا کہ قرآنِ مجید سے ثابت ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

نص قرآنی کی روشنی میں ابلیس کو قیامت تک کے لیے مہلت ہے اس لئے وہ نہیں باندھا جاتا یہاں مراد سرکش شیاطین ہیں جنہیں باندھا جاتا ہے۔
والله أعلم بالصواب

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ