سوال        6800

السلام علیکم محترم، میرے پاس اٹھارہ لاکھ روپے تھے جو کسی کاروبار میں اینوسٹ کئے ہوئے ہیں تو کیا ان پر زکاۃ ہے؟
اور دو تولے زیور بھی ہے؟ تفصیل عنایت فرمائیں۔

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
جی بالکل
کاروبار میں لگائے ہوئے رأس المال (سرمائے) اور اس سے حاصل ہونے والے نفع دونوں پر اڑھائی فیصد زکاۃ ادا کرنا ہوتی ہے، بشرطیکہ وہ رقم نصاب کو پہنچتی ہو۔
چونکہ مذکورہ رقم نصاب کو پہنچ رہی ہے، لہذا اس اٹھارہ لاکھ میں سے اڑھائی فیصد بطور زکاۃ نکالنا ضروری ہے۔
جبکہ دو تولہ سونا چونکہ نصاب کو نہیں پہنچ رہا، اس لیے اس میں زکاۃ فرض نہیں ہے۔

فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ