سوال (5998)
اگر کسی لڑکے نے کسی عورت کا دودھ پیا ہو اور جس لڑکی سے وہ شادی کرنا چاہتا ہو (اس لڑکی کی پہلے ایک شادی ہو چکی ہے اور کسی وجہ سے اسکو خلع لینا پڑا ہے )تو اس لڑکی کے بیٹے نے اسی عورت کا دودھ پیا ہو جس کا لڑکے نے پیا ہے تو کیا اس بچے کی وجہ سے ان کے نکاح میں کوئی رضاعت کی وجہ سے رکاوٹ ہے؟
جواب
اس کے ساتھ رضاعت میں وہ بچہ شریک ہے نہ کہ بچے کی والدہ، اس لیے بچے کی رضاعت رکاوٹ نہیں ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
مثال: عبداللہ شادی کرنا چاہتا ہے، فاطمہ عورت سے اب اس فاطمہ کا ایک بچہ ہے جو کہ پہلے خاوند سے ہے، فاطمہ کے بچے نے اور عبداللہ نے ایک ہی عورت کا دودھ پیا ہے، لہذا اس عبد اللہ اور فاطمہ کا بچہ رضاعی بھائی ہوئے، اس لحاظ سے فاطمہ دونوں کی ماں ہوئیں؟
فضیلۃ الباحث کامران الٰہی ظہیر حفظہ اللہ
فاطمہ دونوں کی ماں کیسے ہوگئی ہے؟ البتہ دودھ پلانے والی دونوں کی ماں ہوگی بشرطیکہ رضاعت کی دیگر شرائط پوری ہوں۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
محترم بھائی رشتہ یا نسبی ہوتا ہے یا رضاعی ہوتا ہے۔ لیکن اس سلسلے میں ایک اصول یاد رکھیں کہ ایک وقت میں آپ نے ایک رشتہ دیکھنا ہے یعنی یا تو رضاعت کا دیکھیں گے یا نسبی رشتہ دیکھیں گے اور پھر فیصلہ کریں گے دونوں کو اکٹھا نہیں دیکھنا۔
مثلا فرض کریں دو عورتیں مریم اور فاطمہ ہیں دونوں آپس میں رشتہ دار نہیں مریم کے تین بیٹے اور فاطمہ کی تین بیٹیاں ہیں اب مریم کے بڑے بیٹے نے فاطمی کا بچپن میں دودھ پیا تو فاطمہ کی تین بیٹیاں مری کے بڑے بیٹے کی رضاعی بہنیں بن گئی لیکن مریم کے دوسرے بیٹوں کے لئے فاطمہ کی تینوں بیٹیاں غیر محرم ہی ہوں گی اور ان سے شادی ہو سکتی ہے حالانکہ فاطمہ کی بیٹیاں مریم کے بڑے بیٹے کی رضاعی بہنیں ہیں لیکن وہ چھوٹے بیٹوں کے ساتھ رضاعت کا کوئی تعلق نہیں رکھتی ہیں۔
پس ایک وقت جب آپ مریم کے بیٹوں کا آپس میں نسبی تعلق دیکھ رہے ہیں تو اب آپ نے ان بیٹوں کا فاطمہ کے ساتھ رضاعی تعلق نہیں دیکھنا اور اگر آپ مریم کے بڑے بیٹے کا فاطمہ کی بیٹیوں کے ساتھ رضٓعی تعلق دیکھ رہے ہیں تو یہاں پھر مریم کے بڑے بیٹے کا باقی بھائیوں کے ساتھ نسبی تعلق نہیں دیکھنا ہے یعنی ایک وقت میں آپ یا رضاعت کا تعلق دیکھ سکتے ہیں یا نسبی تعلق دیکھ سکتے ہیں۔
اس اصول کے مطابق آپ کو سمجھ آ گیا ہو گا کہ فاطمہ کے بیٹے کے ساتھ آپ جب عبداللہ کا رضٓعی تعقل دیکھتے ہوئے اسے اسکا بھائی کہ رہے ہیں تو پھر آپ نے فاطمہ کا اپنے بیٹے کے ساتھ نسبی تعلق نہیں دیکھنا کیونکہ آپ بنیاد رضاعی رشتہ کو بنا رہے ہیں۔
اور اگر آپ بنیاد نسبی رشتہ کو بنا رہے ہیں تو پھر آپ نے عبداللہ کا فاطمہ کے بیٹے کے ساتھ رضاعی رشتہ نہیں دیکھنا ہے پس میرے علم کے مطابق اس میں کوئی رکاوٹ نہیں۔ واللہ اعلم
شیخ محترم وہ نسبی اور رضاعی رشتے کو مکس کر کے بیان کر رہے ہیں کہ فاطمہ اپنے بیٹے کی نسبی ماں ہوئی اور وہ بیٹا عبداللہ کا رضاعی بھائی ہوا تو اپنے بیٹے کے رضٓعی بھائی کی بھی ماں ہو گئی۔
جبکہ میں نے اوپر بتایا ہے کہ ایک وقت میں ایک رشتہ دیکھا جاتا ہے۔ واللہ اعلم
فضیلۃ العالم ارشد حفظہ اللہ
شیخ صاحب میں نے سوال کو ترتیب سے لکھا ہے، وہ مجھے علم ہے کہ فاطمہ دونوں کی ماں نہیں ہو سکتی ہے، بس سائل کو لگتا ہے اس کو کنفرم کرنے کے لیے ایک مثال دی ہے تاکہ سوال واضح ہو جائے۔
فضیلۃ الباحث کامران الٰہی ظہیر حفظہ اللہ
سائل جس علاقے کا ہے، وہاں کے علماء سے سوال کرے، ابھی بھی اس میں ابہام موجود ہے، جو خلاصہ کلام سمجھ میں آیا ہے کہ بندہ شادی کرنا چاہتا ہے، وہ اس عورت سے شادی کرنا چاہتا ہے، جو اس کے رضاعی بھائی کی سگی ماں ہے، یہ مسئلہ ہے، اس کو اس طرح علماء کے سامنے رکھیں، باقی کسی صاحب علم کا ذکر آتا ہے کہ انہوں نے اس طرح کہا ہے، وہ شاید بیان میں غلو کر گئے ہیں، رضاعت پر وقت متعدی نہیں ہوتا، رضاعت ہر ایک کے لیے متعدی کی حیثیت نہیں رکھتی ہے، مطلقاً اس طرح کہنا کہ کوئی بہن بھائی اس طرف نہیں آسکتا، یہ بھی صحیح نہیں ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
جی شیخ محترم میں تو یہی سمجھتا ہوں کہ فرض کریں میری کوئی رضاعی بہن ہے جسکی ماں کا میں نے دودھ پیا ہے لیکن میرے دوسرے بھائی نے نہیں پیا تو میرے دوسرے بھائی سے وہ میری رضاعی بہن مکمل پردہ کرے گی اس پہ تو کوئی ابہام میرے علم میں نہیں۔ البتہ میرے نزدیک میرا سگا بھائی میری اس رضاعی بہن سے شادی بھی کر سکتا ہے۔ لیکن یہ بات کسی بڑے عالم سے کنفرم بھی کروانی ہے۔
فضیلۃ العالم ارشد حفظہ اللہ
یہ آپ کی بات درست ہے، آپ کی رضاعی بہن آپ کے دوسرے بھائی سے شادی کر سکتی ہے، اس کی جملہ بہنیں آپ کے لیے حرام ہونگی، آپ خود بھی اس پر حرام ہیں، ایک طرف سے متعدی ہو رہی ہے، ایک طرف سے متعدی نہیں ہو رہی۔
سوال کی جو سمجھ مجھے آئی ہے، سوال اس طرح ہی ہے، یہ اہل علم نے سمجھا ہے، وہ اس عورت سے نکاح کرسکتا ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
جی شیخ محترم جیسا کہ آپ کہ رہے ہیں کہ کچھ جگہوں پہ متعدی ہو سکتا ہے کچھ جگہوں پہ نہیں اسی کا اصول اوپر بتایا تھا کہ آپ ایک رشتہِ پہلے چن لیں کہ رضاعی لینا ہے یا نسبی لینا ہے۔ پھر جو عشرہ چن لیا اسی رشتہِ کے تحت ہر جگہ متعدی ہو گا۔ مثلا رضاعی کو دیکھیں تو ہر رضاعی رشتہِ تک متعدی ہو گا نسبی پہ نہیں ہو گا۔ واللہ اعلم
فضیلۃ العالم ارشد حفظہ اللہ




