سوال 6798
گھروں کے رینٹ اور قیمت پر زکوٰۃ: کیا زکوٰۃ گھر کی مارکیٹ ویلیو پر دینی ہے یا صرف حاصل ہونے والے کرایہ پر؟ اسی طرح اسٹیٹ لائف کی پالیسی کی آمدنی پر زکوٰۃ کیسے دی جائے؟
جواب
دیکھیں، جو کرایہ دونوں مکانوں سے آ رہا ہے، اگر سال کے آخر میں یہ رقم ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو جائے تو آپ کو اس پر زکوٰۃ دینی ہوگی، شرح ڈھائی فیصد کے مطابق۔
یاد رکھیں، یہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت سے زکوٰۃ کا آغاز ہوگا، اور جتنا بھی پیسہ اس کے بعد جمع ہو، اس کے کل پر زکوٰۃ واجب ہوگی۔ مثال کے طور پر، اگر ساڑھے پانچ لاکھ روپے کی چاندی ہے اور آپ کے پاس دس لاکھ یا بیس لاکھ ہو جائے، تو ٹوٹل رقم پر زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی۔
جہاں تک مکان کا معاملہ ہے، جس مکان کو آپ بیچنے کا ارادہ رکھتی ہیں، اس کی ہر سال نئی مارکیٹ ویلیو پر بھی زکوٰۃ واجب ہوگی۔
تیسرا مسئلہ اسٹیٹ لائف انشورنس کا ہے۔ اس کا پیسہ ناجائز ہے، البتہ جو رقم آپ نے اپنی جمع کرائی تھی، اس پر آپ زکوٰۃ دے سکتی ہیں، ڈھائی فیصد کے حساب سے۔ اسے آپ اپنی رینٹ کی بچت کے ٹوٹل میں شامل کر کے زکوٰۃ ادا کریں۔
جہاں تک باقی انشورنس کا پیسہ ہے، اگر وہ ناجائز ہے، تو: بغیر کسی نیت کے اسے کسی غیر مسلم کو دے دیں، یا کسی سودی معاملے میں الجھا ہوا رقم ہے تو اس کی نیت سے نکل کر سود کی رقم کو سود سے نکالنے کے لیے دے دیں، یا اگر کسی پر ظلم کرتے ہوئے رقم رکھی گئی ہے، مثلاً کسی کیس یا بجلی کے بل میں، تو اس کو درست طریقے سے واپس دے دیں۔
یوں آپ اپنی زکوٰۃ واجبہ ادا کریں اور باقی ناجائز رقم سے صاف ہو جائیں۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




