سوال (3666)

جو یہ مسئلہ ہے کہ گریہ زاری کرتے ہیں کہ فوت شدہ پر ان کے بڑے بڑے القابات بیان کیے جاتے ہیں، اس وقت میت پر عذاب ہوتا ہے، جبکہ دوسری طرف کسی کا بوجھ دوسرے پر نہیں جاتا ہے۔ رہنمائی کیجئے گا۔

جواب

یہ حدیث ہم نے اساتذہ سے پڑھی تھی، اساتذہ نے اس کی مختلف توجیہات کی تھی۔
ایک توجیہ یہ کی تھی کہ اگر نوحہ کرنا میت کا اپنا طریقہ کار رہا ہو، پھر اس کو عذاب ہوگا، یا میت نے وصیت کی ہو کہ میرے جانے کے بعد نوحہ کرنا ہے، یا اس نے مرنے سے پہلے نوحہ کرنے سے روکا نہ ہو، اس پر راضی ہو تو اس کو عذاب ہوگا، اس طریقے سے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اس سے مراد عذاب نہیں ہے، فرشتوں کی طرف سے تنبیہ ہے، یہ مختلف توجیہات اہل علم نے کی ہیں، میں نے صرف خلاصہ رکھا ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الرزاق زاہد حفظہ اللہ

سوال: شیخ کیا ایسی حدیث ہے کہ میت پر نوحہ کرنے سے میت کو عذاب ہوتا ہے؟

جواب:  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

“إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ” [صحيح البخاري: 1280]

«میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے»

باقی آنسو بھانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الرزاق زاہد حفظہ اللہ

اس پر جو اشکال ہے، وہ شاید سائل کے ذہن پر ہوگا، رو ایک رہا ہے، عذاب دوسرے کو دے رہا ہے، امام بخاری رحمہ اللہ نے باب قائم کیا ہے، میت کو رونے پر عذاب ہوتا ہے، بشرطیکہ رونے والا کی سنت اور طریقہ میت پر نوحہ ہو، یعنی وہ خود بنیاد رکھ کر گیا ہے کہ میں مرجاوں تو اس طرح رونا، اس طرح اس کو پتا تھا کہ میرے خاندان میں نوحہ کرتے ہیں، لیکن اس نے سمجھایا نہیں ہے، ہاں باقی یہ سمجھا کہ گیا ہے تو پھر ان شاءاللہ عذاب نہیں ہوگا۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ