سوال 6905
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ شیخ محترم اگر کوئی بندہ روزہ رکھ کر نماز نہ پڑھے یا دو تین پڑھے تو اسکو روزے کا مکمل ثواب ملے گا؟ رہنمائی فرما دیں۔
جواب
وعليكم السلام و رحمة الله و بركاته
پورا ثواب یا آدھا ثواب یا اس کا فیصد نکالنا تو ہمارے لیے ممکن نہیں ہے یہ باتیں اللہ رب العالمین ہی بہتر جانتا ہے۔
یہ کہا جا سکتا ہے کہ نماز اور روزہ دونوں مستقل عبادتیں ہیں اور دونوں کی ادائیگی فرض ہے۔
جو جس میں جتنی کوتاہی کرے گا اس کو اتنا گناہ ملے گا یا ثواب میں کمی ہوگی۔
فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
نماز چھوڑنا گناہ ہی نہیں بلکہ کفر ہے۔
ترمذی#2622
“عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ قَالَ كَانَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ ﷺ لَا يَرَوْنَ شَيْئًا مِنْ الْأَعْمَالِ تَرْكُہُ كُفْرٌ غَيْرَ الصَّلَاةِ”
عبداللہ بن شقیق عقیلی کہتے ہیں: صحابہ کرام(رضی اللہ عنہم) صلاۃ کے سوا کسی عمل کے چھوڑ دینے کو کفر نہیں سمجھتے تھے۔
سندہ،صحیح
اصول واضح رہے کہ: تارک الصلاۃ شخص، جو نماز بالکل ہی نہ پڑھتا ہو یا اس کی فرضیت و اہمیت کا انکاری ہو تو دونوں صورتوں میں کفر لازم آئے گا۔ اور ایسے شخص کا کوئی بھی عمل قبول نہیں خواہ قربانی ہو، روزہ ہو یا کوئی اور نیک عمل۔
لیکن اگر کوئی شخص نمازیں پڑھتا تو ہے لیکن سستی کی وجہ سے کچھ چھوڑ دیتا ہے اور اس چھوڑنے کو برا جانتا ہے، تو ایسے شخص کو کافر نہیں کہیں گے، اور اس کے سارے اعمال کے ضائع ہونے کا بھی حکم بیان نہیں کرتے۔
البتہ ایسے شخص کو اللہ سے ڈرنے اور اپنی اصلاح کی نصیحت کرنی چاہیے، اس سے پہلے کہ اللہ اس کے اعمال کو ضائع کردے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب
فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ



