سوال (2276)

اگر امام نماز میں رکوع کے بعد ہاتھ باندھتا ہے اور مقتدی نہیں باندھتے ہیں تو اس سے ان کی نماز درست ہوگی؟

جواب

کوئی حرج نہیں ہے، سب کی نماز درست ہے۔ ان شاءاللہ

فضیلۃ الشیخ سعید مجتبیٰ سعیدی حفظہ اللہ

یاد رکھیں بعد از رکوع ہاتھ باندھنا فرض نہیں ہے، نہ ہی اس کی فرضیت پر کوئی صحیح اور صریح دلیل موجود ہے، بلکہ اس میں وسعت ہے، جو چاہے باندھ لے، جو چاہے نہ باندھے، البتہ نہ باندھنا زیادہ بہتر معلوم ہوتا ہے، خیر یہ ایک اجتہادی مسئلہ ہے تو ایسے امام کی اقتداء میں نماز ہو جائے گی۔ إن شاءالله الرحمٰن
هذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ

سوال: رکوع کے بعد سینے پر ہاتھ باندھنے چاہئیں، احادیث کی روشنی میں وضاحت کردیں۔

جواب: ایک عرصے تک یہ بات چلتی رہی ہے، کبھی اثبات اور کبھی نفی بھی ہوتی رہی ہے، پھر الحمد للہ ایک عرصے کے بعد اہل علم کے رسائل اور دلائل کو پڑھ کر ہمارا موقف دو ٹوک ہے کہ ارسال الیدین ہی اولی اور افضل ہے، اس لیے کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما سے دو روایتیں ہیں، ایک ہاتھ باندھنے کی ہے، ایک ہاتھ چھوڑنے کی ہے، قبل الرکوع اور بعد الرکوع کی کوئی بحث نہیں ہے، اس کی بہترین تطبیق یہ ہے کہ جو باندھنے والی حدیث ہے، وہ رکوع سے پہلے کی ہے، ارسال الیدین والی بعد کی ہے، حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ نے اس کو ہی دیکھ کر ہاتھ باندھنا چھوڑ دیا تھا، حالانکہ ایک عرصے تک ہاتھ باندھنے کے قائل و فاعل رہے ہیں۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ