سوال (2969)
رکوع کے بعد ہاتھ باندھنا کیسا ہے؟ اگر اس سلسلے میں کوئی حدیث ہے تو اس کی طرف بھی راہنمائی فرمائیں؟
جواب
یہ یاد رکھیں کہ بعد از رکوع ہاتھ باندھنا اس مسئلے میں سختی نہیں کرنی چاہیے ، ہمارے بزرگوں کے درمیان میں بھی اختلاف رہا ہے، شیخ العرب و العجم سید بدیع الدین راشدی رحمہ اللہ نے اس پر سختی اختیار کی ہے، مجھے ثقہ راویوں نے بتایا ہے کہ شیخ سے کسی نے پوچھا کہ رکوع کے بعد ہاتھ باندھنے کا کیا حکم ہے؟ شیخ نے بڑے سخت الفاظ استعمال کیے تھے کہ کون کہتا ہے کہ نہیں باندھنے چاہیے، دوسری طرف شیخ البانی رحمہ اللہ اس کو بدعت کہتے تھے، فریقین کے استدلال احادیث مبارکہ سے ہے، قاعدہ ہے کہ جب احتمال آ جائے تو استدلال باطل ہوجاتا ہے، اس لیے یہ مسئلہ کفر و اسلام کا نہیں ہے، اس لیے دونوں کو غلط نہیں کہا جائے گا، میں ذاتی طور ہاتھ بعد از رکوع نہیں باندھتا ہوں، لیکن جو باندھتے ہیں، ان کو غلط نہیں کہتا ہوں، یہ میں ایک وسیع دلائل کا خلاصہ پیش کر رہا ہوں۔
فضیلۃ الشیخ عبدالرزاق زاہد حفظہ اللہ
سوال: السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ
شیخ کیا رکوع کے بعد ہاتھ باندھنے کی کوئی معتبر دلیل ہے یا بدعت ہی کہیں گے اسے؟
جواب: وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
دیکھیں، بدعت کا فتویٰ اس طرح کے مسائل میں نہیں لگانا چاہئے۔ اگرچہ شیخ البانی رحمہ اللہ نے فرمایا «لا شک فی بدعته»، لیکن یہ ایک پر تشدد قول کہلاتا ہے۔ واللہ اعلم، میرا سمجھنا یہ ہے کہ ایسے فروعی مسائل میں تشدد اختیار نہیں کرنا چاہئے۔
اصل بات یہ ہے کہ اولیٰ اور غیر اولیٰ میں فرق کرنا چاہیے۔ ہمارے نزدیک افضل اور اولیٰ یہ ہے کہ نماز میں ہاتھ ارسال کیے جائیں، یعنی رکوع کے بعد چھوڑے جائیں، اور یہی راجح قرار پاتا ہے۔
اس سلسلے میں حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ نے بھی اپنی زندگی کے آخری اوقات میں تفصیلی ابواب کے حوالے سے بحث کی تھی، جسے صحیفہ اہل حدیث میں اور دیگر جگہوں پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اس حوالے سے کام کافی حد تک ہو چکا ہے، لہٰذا تشدد دونوں اطراف سے نہیں ہونا چاہئے۔
ہمارے نزدیک اولیٰ یہی ہے کہ ہاتھ ارسال کیے جائیں، اور اس کے ادلہ بالکل واضح ہیں: محدثین کی تبویب، ابواب کا قیام، اور چودہ سو سالہ امت کا عملی مشاہدہ۔ مقلدین کی عملداری بھی چاروں یا پانچوں اطراف و اکناف میں واضح ہے۔ تاریخی طور پر، عبد اللہ بن زبیر سے دونوں طرح کی روایتیں موجود ہیں: ایک روایت میں ارسال کا ذکر ہے، ایک روایت میں وضع (باندھنے) کا ذکر ہے۔
حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ نے ان روایات کی تطبیق پیش کی کہ جو باندھنے کی روایت ہے وہ رکوع سے پہلے کی ہے اور جو ارسال کی روایت ہے وہ رکوع کے بعد کی ہے۔ اسی فہم کو دیکھ کر اور سمجھ کر شیخ البانی رحمہ اللہ نے اپنے موقف سے رجوع کیا اور ارسال کے قائل ہو گئے، حالانکہ پہلے وہ ہاتھ باندھنے کے قائل اور فاعل بھی تھے اور اس پر کتابیں بھی لکھتے تھے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




