سوال 6695
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
چار بھائیوں کی اکلوتی بہن ابھی تک گھر بیٹھی ہوئی ہے، حالانکہ انکے رشتے کیلئے کئی بندے آئے تھے اس کے والد نے ان کو جواب دیا پھر جب والد کا انتقال ہوا اس کے بڑے بھائی نے انکار کیا اور وہ بہن کو اپنے گھر میں ایک مزدور سمجھ کر رکھا ہوا ہے والد کی کچھ زمین تھی اس سے بھی بہن کو محروم کردیاـ اس ظالم اور جاہل کیلئے کیا خیال ہے؟
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
بھائی میں اگر رشد (منکوحہ کے متعلق ارادہ خیر) ختم ہوگیا ہے اور مناسب رشتے کے ملنے کے باوجود اپنے ذاتی مفادات کے تحت انکار کر رہا ہے تو اس سے ولایت دوسرے ولی کی طرف منتقل ہو جائے گی۔ اس کے دادا، چچا وغیرہ اس کے ولی بنیں گے۔
اگر ان میں سے کوئی موجود نہ ہو یا وہ ذمے داری لینے سے انکار کر رہے ہوں تو پھر علاقے کا بڑا یا عدالت ولایت کا اختیار سنبھال کر بچی کے لیے اس کی رضا مندی سے مناسب رشتہ دیکھ کر نکاح کروا دے گی۔
رہا حقِ وراثت تو وہ اسے ضرور ملے گا، اگر بھائی نہیں دے رہا تو بذریعہ پنچایت/عدالت وہ لے سکتی ہے۔
آپ کے بتانے کے مطابق بھائی کا یہ عمل ظلم پر مبنی ہے جو کہ کبیرہ گناہ ہے بھائی کو توبہ کرنی چاہیے۔
واللہ اعلم بالصواب۔
فضیلۃ الباحث محمد محبوب أثری حفظہ اللہ




