سوال (5902)
کیا سال میں ایک بار ٹیچر ڈے منانا درست عمل ہے؟
جواب
اسلام میں عیدین کے علاوہ سالانہ طور پر کوئی بھی دن متعین کرکے منانا یہ شرعا باطل ہے۔ خواہ وہ فادر ڈے، مدر ڈے، ٹیچر ڈے ہو یا یوم آزادی۔
شریعت ان سب خرافات سے پاک ہے۔ یہ شر کا راستہ ہے۔ شر سے خیر حاصل نہیں ہوسکتی۔
یہ یہودیوں، عیسائیوں اور اہل کفر کا شیوہ ہے۔ جبکہ مسلمانوں کو تو ان کی مخالفت کا حکم ہے۔
قالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ،[ابوداود:4031، سندہ حسن]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس نے جس قوم کی مشابہت کی وہ انہی میں سے ہے۔
لہذا ٹیچر ڈے کی مناسبت سے پوسٹر بنا کر نشر کرنا، اساتذہ کو مبارک باد دینا یہ سب خرافات ہیں۔
اہل ایمان کا شیوہ نہیں۔ ھذا ما عندی واللہ اعلم باالصواب
فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ
سائل: اگر اہل بدعت ہمیں یہ کہیں کہ یہ ثواب سمجھ کر نہیں کرتے وہ لہذا یہ دین نہیں، پھر اس عمل کو کیا کہیں گے؟
جواب: کفار بھی سالانہ طور پر دن متعین کرکے کھیل کود ہی کیا کرتے تھے، ناکہ مذہبی عبادات کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہی کے مقابلہ میں عیدین کا ذکر کیا۔
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قال: كَانَ لِأَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ يَوْمَانِ فِي كُلِّ سَنَةٍ يَلْعَبُونَ فِيهِمَا، فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، قَالَ:” كَانَ لَكُمْ يَوْمَانِ تَلْعَبُونَ فِيهِمَا وَقَدْ أَبْدَلَكُمُ اللَّهُ بِهِمَا خَيْرًا مِنْهُمَا يَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ الْأَضْحَى”. [النسائی: 1557]
جاہلیت کے لوگوں کے لیے سال میں دو دن ایسے ہوتے تھے جن میں وہ کھیل کود کیا کرتے تھے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (مکہ سے ہجرت کر کے) مدینہ آئے تو آپ نے فرمایا: ”تمہارے لیے دو دن تھے جن میں تم کھیل کود کیا کرتے تھے (اب) اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان کے بدلہ ان سے بہتر دو دن دے دیئے ہیں: ایک عید الفطر کا دن اور دوسرا عید الاضحی کا دن“۔ سندہ،صحیح
جس سے واضح ہوتا کہ اپنی مرضی سے یوم آزادی، فادر ڈے، مدر ڈے، ٹیچر ڈے کی نسبت سے دن متعین کرکے منانا یہ بھی غیر شرعی ہے خواہ نیت عبادت کی نہیں۔ ھذا ما عندی واللہ اعلم باالصواب
فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ




