سوال      6683

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ شیخ صاحب یہ جمعہ کے دن جو یہ آیا ہے کہ جو پہلے ساعت میں آئے تو اس کا اتنا اجر اونٹ جتنا اور دوسری ساعت میں آئے تو گائے جتنا اجر تو یہ ساعت سے کیا مراد ہے؟ یہ کس اعتبار سے تقسیم ہے؟ کیا یہ ایک، دو، تین کے اعتبار سے ہے یا اس اعتبار سے کہ جو طلوعِ شمس سے شروع ہوتے ہیں یا کچھ اور مراد ہے؟ تھوڑی وضاحت فرمائیں

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
گھڑی سے مراد مخصوص ٹائم پیریڈ ہے۔ عام لوگوں میں مشہور یہ ہے کہ جو پہلے آیا وہ مستحق ثواب ہے، لیکن اصل میں مراد پہلی گھڑی میں آنے والے ہیں، چاہے اس گھڑی میں آنے والے افراد کی تعداد دو ہوں، سو ہوں یا دو سو ہوں، سب کو ثواب ملے گا ان شاء اللہ۔
اس گھڑی کا تعین کرنے کے لیے آپ یوں کر سکتے ہیں کہ سورج کے طلوع سے لے کر زوالِ شمس تک، جو وقت آپ کے پاس ہے، اسے گھنٹوں میں تقسیم کریں۔ مثال کے طور پر اگر آپ کے پاس چھ گھنٹے ہیں تو چھ گھڑیاں بنا لیں، ایک ایک گھنٹے کی۔ اگر آدھے گھنٹے کی گھڑیاں بنائیں تو بارہ گھڑیاں ہوں گی۔ اس طرح سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔
کچھ روایات میں بھی اسی طریقے سے ذکر آیا ہے کہ گھڑی لمحہ بھر کی نہیں ہوتی بلکہ کچھ پھیلی ہوئی ہوتی ہے۔ اسے آدھا، پونا گھنٹہ یا ایک گھنٹہ سمجھنا مناسب ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ