صدقہ فطر (فطرانہ) احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں

صدقۂ فطر اسلام کا ایک اہم مالی فریضہ ہے جو رمضان کے اختتام پر ادا کیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد روزوں کی کوتاہیوں کی تلافی اور مساکین کی مدد ہے تاکہ معاشرے کا ہر فرد عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکے۔

1️⃣ فطرانہ کس پر واجب ہے؟
فطرانہ ہر مسلمان پر واجب ہے، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، چھوٹا ہو یا بڑا، بشرطیکہ وہ صاحبِ استطاعت ہو۔ گھر کا سربراہ اپنے زیرِ کفالت افراد کی طرف سے بھی ادا کرے گا۔
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:

فَرَضَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ زَكَاةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، عَلَى الْعَبْدِ وَالْحُرِّ، وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى، وَالصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ

رسول اللہ ﷺ نے زکوٰۃ الفطر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو مقرر فرمائی، غلام و آزاد، مرد و عورت، چھوٹے اور بڑے ہر مسلمان پر۔
(صحیح بخاری: 1503)

2️⃣ فطرانے کا مقصد
فطرانہ روزوں کی کمزوریوں کی اصلاح اور محتاجوں کی مدد کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:

فَرَضَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ زَكَاةَ الْفِطْرِ طُهْرَةً لِّلصَّائِمِ مِنَ اللَّغْوِ وَالرَّفَثِ، وَطُعْمَةً لِّلْمَسَاكِينِ

رسول اللہ ﷺ نے صدقۂ فطر کو روزہ دار کے لیے لغو اور بیہودہ باتوں سے پاکی اور مساکین کے لیے کھانے کا انتظام قرار دیا۔(سنن ابی داود: 1609)

3️⃣ فطرانہ ادا کرنے کا وقت
فطرانہ عید کی نماز سے پہلے ادا کرنا افضل ہے تاکہ ضرورت مند عید کے دن خوشحال رہیں۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی سے روایت ہے:

مَنْ أَدَّاهَا قَبْلَ الصَّلَاةِ فَهِيَ زَكَاةٌ مَقْبُولَةٌ، وَمَنْ أَدَّاهَا بَعْدَ الصَّلَاةِ فَهِيَ صَدَقَةٌ مِنَ الصَّدَقَاتِ

جس نے اسے نمازِ عید سے پہلے ادا کیا وہ مقبول زکوٰۃ ہے، اور جس نے نماز کے بعد ادا کیا وہ عام صدقات میں سے ایک صدقہ ہے۔
(سنن ابی داود: 1609)
مزید یہ کہ صحابہ کرامؓ اسے عید سے پہلے ادا کر دیتے تھے۔
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:

وَكَانُوا يُعْطُونَ قَبْلَ الْفِطْرِ بِيَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ

صحابہ کرام عید الفطر سے ایک یا دو دن پہلے فطرانہ ادا کر دیا کرتے تھے۔
(صحیح بخاری: 1511)

4️⃣ فطرانے کی مقدار
نبی کریم ﷺ کے زمانے میں فطرانہ مختلف اجناس سے دیا جاتا تھا۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

كُنَّا نُخْرِجُ زَكَاةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ

ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں صدقۂ فطر ایک صاع غلہ، یا ایک صاع جو، یا ایک صاع کھجور، یا ایک صاع پنیر، یا ایک صاع کشمش نکالا کرتے تھے۔ (صحیح بخاری: 1506)
وضاحت:
♻️ایک صاع تقریباً 2.5 سے 3 کلوگرام کے برابر ہوتا ہے۔
♻️افضل یہ ہے کہ جنس ہی ادا کی جائے البتہ قیمت بھی ادا کی جاسکتی ہے۔

ناشر: حافظ امجد ربانی

یہ بھی پڑھیں: زکاۃ اور صدقۃ الفطر کا حساب لگائیں