سوال       6722

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
روزوں میں جو فطرانہ دینا ہوتا ہے تو یہ گنجائش کے مطابق زیادہ بھی دیا جا سکتا ہے؟ ایک طرف بھائی ہے اور ایک طرف بھابھی ہے۔ یعنی کہ بھائی کی طرف یا بھابھی کی طرف۔ کیا دونوں کو بھی دیا جا سکتا ہے؟ اس کے بارے میں وضاحت کر دیں۔

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
صدقۃ الفطر، جسے فطرانہ بھی کہا جاتا ہے، ہر ایسے مسکین اور ضرورت مند مسلمان کو دیا جا سکتا ہے، جو آپ کی کفالت میں نہ ہو۔
لہذا بھائی، بھابھی یا شادی شدہ بہن جب وہ آپ کی کفالت میں شامل نہ ہوں تو انہیں صدقۃ الفطر دینا جائز ہے، بلکہ اولیٰ اور افضل ہے۔
اگر اس پر زیادہ دینا چاہیں تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں، بلکہ اس کا اجر اللہ تعالیٰ کے پاس محفوظ ہے اور یہ جائز ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ