سوال (6493)
کیا سفر میں وتر (مستقل طور پر) چھوڑے جا سکتے ہیں؟ اس ضمن میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کا ایک اثر پیش کیا جاتا ہے کہ انہوں نے کسی سوال کرنے والے سے فرمایا کہ اگر میں نے وتر پڑھنے ہوتے تو فرض ہی پورے نہ پڑھ لیتا۔
جواب
فرض نماز میں سنت مؤکدہ چھوڑنا ثابت ہے، وتر بھی مؤکدہ میں سے ہے، لیکن پڑھنا ثابت ہے، جو چیز ثابت ہے، اس پر عمل ہوگا، اس کو ترک نہیں کیا جائے گا، جہاں تک سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے اثر کا تعلق ہے، اس کی سند پیش کریں تاکہ اس کو دیکھا جائے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
عام طور پر بیٹھ کر ہی پیشاب کرنا چاہیے ہے کیونکہ آج ہر جگہ ٹویلٹ، باتھ روم ہیں جہاں پر چھینٹوں سے بچنا ممکن نہیں ہے۔ البتہ اگر کوئی کبھی کبھار عذر یا عدم عذر کی وجہ سے کھڑے ہو کر پیشاب کر لے کہ اس کے جسم اور لباس کو اس کی چھینٹیں متاثر نہ کریں تو جائز ہے۔
جواز کے لئے دیکھیے، صحیح البخاری: (224 ،2471)، صحیح مسلم: (273)
ایک جگہ امام بخاری نے باب باندھا ہے۔ ﺑﺎﺏ اﻟﺒﻮﻝ ﻗﺎﺋﻤﺎ ﻭﻗﺎﻋﺪا
حدیث حذیفہ، اور حدیث سیدہ عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا میں تطبیق وجمع کے لئے دیکھیے فتح الباری لابن حجر العسقلانی،
بعض صحابہ کا عمل
ﺃﻥ ﺟﺮﻳﺮا، ﺑﺎﻝ ﻗﺎﺋﻤﺎ، ﺛﻢ ﺗﻮﺿﺄ ﻭﻣﺴﺢ ﻋﻠﻰ اﻟﺨﻔﻴﻦ، ﻭﺻﻠﻰ، ﻓﺴﺄﻟﺘﻪ ﻋﻦ ﺫﻟﻚ، ﻓﺬﻛﺮ ﻋﻦ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﺃﻧﻪ ﻓﻌﻞ ﻣﺜﻞ ﺫﻟﻚ، مسند أحمد بن حنبل:(19237،واللفظ له،19168 ) صحيح
سیدنا علی المرتضی رضی الله عنہ
مصنف ابن أبي شيبة: (1321) صحیح ،شرح معاني الآثار: (6813،6814 ،6815) صحيح
سیدنا زید بن ثابت: (1322) شرح معاني الآثار: (6816) صحیح
سیدنا عبد الله بن عمر رضی الله عنہ شرح معاني الآثار: (6817) صحيح
اس أثر کے متصل بعد امام طحاوی کہتے ہیں: ﻓﻬﺆﻻء ﺃﺻﺤﺎﺏ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻗﺪ ﻛﺎﻧﻮا ﻳﺒﻮﻟﻮﻥ ﻗﻴﺎﻣﺎ، ﻭﺫﻟﻚ ﻋﻨﺪﻧﺎ ﻋﻠﻰ ﺃﻧﻬﻢ ﻛﺎﻧﻮا ﻳﺄﻣﻨﻮﻥ ﺃﻥ ﻳﺼﻴﺐ ﺷﻲء ﻣﻦ ﺫﻟﻚ ﺛﻴﺎﺑﻬﻢ ﻭﺃﺑﺪاﻧﻬﻢ،
شرح معاني الآثار: (6817)
سیدنا عمر فاروق رضی الله عنہ سے کھڑے ہو پیشاب کرنا ملتا ہے۔
شرح معاني الآثار: (6812)،مصنف ابن أبي شيبة: (1420) صحیح
دوسرا أثر اور اس پر امام طحاوی کی توضیح
ﻋﻦ اﺑﻦ ﻋﻤﺮ ﻗﺎﻝ: ﻗﺎﻝ ﻋﻤﺮ: ﻣﺎ ﺑﻠﺖ ﻗﺎﺋﻤﺎ ﻣﻨﺬ ﺃﺳﻠﻤﺖ،
شرح معاني الآثار: (6818) صحیح واللفظ له، مصنف ابن أبي شيبة: (1334) صحيح
اس أثر کے بعد امام طحاوی کہتے ہیں:
ﻗﻴﻞ ﻟﻪ: ﻗﺪ ﻳﺠﻮﺯ ﺃﻥ ﻳﻜﻮﻥ ﻋﻤﺮ ﻟﻢ ﻳﺒﻞ ﻗﺎﺋﻤﺎ ﻣﻨﺬ ﺃﺳﻠﻢ ﺣﺘﻰ ﻗﺎﻝ ﻫﺬا اﻟﻘﻮﻝ ﺛﻢ ﺑﺎﻝ ﺑﻌﺪ ﺫﻟﻚ ﻗﺎﺋﻤﺎ ﻋﻠﻰ ﻣﺎ ﺭﻭاﻩ ﻋﻨﻪ ﺯﻳﺪ ﺑﻦ ﻭﻫﺐ. ﻓﻔﻲ ﺫﻟﻚ ﻣﺎ ﻳﺪﻝ ﻋﻠﻰ ﺃﻧﻪ ﻟﻢ ﻳﻜﻦ ﻳﺮﻯ ﺑﺎﻝﺑﻮﻝ ﻗﺎﺋﻤﺎ ﺑﺄﺳﺎ. ﻭﻗﺪ ﺩﻝ ﻋﻠﻰ ﺫﻟﻚ ﺃﻳﻀﺎ ﻣﺎ ﻗﺪ ﺭﻭﻳﻨﺎﻩ ﻋﻦ اﺑﻦ ﻋﻤﺮ ﻓﻲ ﻫﺬا اﻟﺒﺎﺏ ﻣﻦ ﺑﻮﻟﻪ ﻗﺎﺋﻤﺎ. ﻭﻗﺪ ﺣﺪﺙ ﻋﻦ ﻋﻤﺮ ﺑﻦ اﻟﺨﻄﺎﺏ ﺑﻤﺎ ﻗﺪ ﺫﻛﺮﻧﺎ. ﻓﺪﻝ ﺫﻟﻚ ﻋﻠﻰ ﺭﺟﻮﻉ ﻋﻤﺮ ﻋﻦ ﻛﺮاﻫﻴﺔ اﻟﺒﻮﻝ ﻗﺎﺋﻤﺎ ﺇﺫا ﻛﺎﻥ ﺫﻟﻚ ﻟﻤﺎ ﺭﻭاﻩ ﻋﻨﻪ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻋﻤﺮ ﻭﻟﻢ ﻳﻜﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻋﻤﺮ ﻳﺘﺮﻙ ﻣﺎ ﺳﻤﻌﻪ ﻣﻦ ﻋﻤﺮ ﺇﻻ ﺇﻟﻰ ﻣﺎ ﻫﻮ ﺃﻭﻟﻰ ﻋﻨﺪﻩ ﻣﻦ ﺫﻟﻚ، شرح معاني الآثار :4/ 268
بعض نے زید بن وھب عن عمر کی روایت کو وھم کہا ہے جو مرجوح معلوم ہوتا ہے۔
امام ابن المنذر کہتے ہیں:
ﺫﻛﺮ اﺧﺘﻼﻑ ﺃﻫﻞ اﻟﻌﻠﻢ ﻓﻲ اﻟﺒﻮﻝ ﻗﺎﺋﻤﺎ اﺧﺘﻠﻒ ﺃﻫﻞ اﻟﻌﻠﻢ ﻓﻲ اﻟﺒﻮﻝ ﻗﺎﺋﻤﺎ ﻓﺜﺒﺖ ﻋﻦ ﺟﻤﺎﻋﺔ ﻣﻦ ﺃﺻﺤﺎﺏ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﺃﻧﻬﻢ ﺑﺎﻝﻭا ﻗﻴﺎﻣﺎ، ﻭﻣﻤﻦ ﺛﺒﺖ ﺫﻟﻚ ﻋﻨﻪ ﻋﻤﺮ ﺑﻦ اﻟﺨﻄﺎﺏ، ﻭﺭﻭﻱ ﺫﻟﻚ ﻋﻦ ﻋﻠﻲ، ﻭﺛﺒﺖ ﺫﻟﻚ ﻋﻦ ﺯﻳﺪ ﺑﻦ ﺛﺎﺑﺖ، ﻭاﺑﻦ ﻋﻤﺮ، ﻭﺳﻬﻞ ﺑﻦ ﺳﻌﺪ، ﻭﺭﻭﻱ ﺫﻟﻚ ﻋﻦ ﺃﻧﺲ، ﻭﺃﺑﻲ ﻫﺮﻳﺮﺓ، ﻭﻓﻌﻞ ﺫﻟﻚ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺳﻴﺮﻳﻦ، ﻭﻋﺮﻭﺓ ﺑﻦ اﻟﺰﺑﻴﺮ. الأوسط لابن المنذر :1/ 133
امام ابن خزیمہ نے یوں عنوان قائم کیا ہے۔ ﺑﺎﺏ اﻟﺮﺧﺼﺔ ﻓﻲ اﻟﺒﻮﻝ ﻗﺎﺋﻤﺎ:(61)
پھر باب قائم کیا: ﺑﺎﺏ اﺳﺘﺤﺒﺎﺏ ﺗﻔﺮﻳﺞ اﻟﺮﺟﻠﻴﻦ ﻋﻨﺪ اﻟﺒﻮﻝ ﻗﺎﺋﻤﺎ، ﺇﺫ ﻫﻮ ﺃﺣﺮﻯ ﺃﻥ ﻻ ﻳﻨﺸﺮ اﻟﺒﻮﻝ ﻋﻠﻰ اﻟﻔﺨﺬﻳﻦ ﻭاﻟﺴﺎقين، صحيح ابن خزیمہ: (63)
امام ابن الجارود نے یوں عنوان قائم کیا
اﻟﺮﺧﺼﺔ ﻓﻲ اﻟﺒﻮﻝ ﻗﺎﺋﻤﺎ ﻭﻗﺮﺏ اﻟﻨﺎﺱ، المنتقى لابن الجارود: (36)
امام نسائی نے یوں عنوان قائم کیا
اﻟﺮﺧﺼﺔ ﻓﻲ اﻟﺒﻮﻝ ﻓﻲ اﻟﺼﺤﺮاء ﻗﺎﺋﻤﺎ، سنن نسائی :(26)
دوسری جانب کچھ سلف صالحین اس عمل کو ناپسند خیال کرتے تھے۔
اس کے لئے دیکھیے مصنف ابن أبی شیبہ ،الأوسط لابن المنذر وغيره۔ والله أعلم بالصواب
فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ




