سوال       6701

“جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا اگرچہ ایک لمحے کیلئے ہو، وہ اپنی صحبت کی وجہ سے تمام تابعین سے افضل ہے چاہے وہ تابعین تمام نیکیاں کر کے آ جائیں۔” [امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ | اصول السنۃ]

جواب

اس معنی میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا قول بھی ثابت ہے۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ،وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللہِ،قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ،قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ،عَنْ نُسَيْرِ بْنِ ذُعْلوقٍ،قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ: “لَا تَسُبُّوا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ،فَلَمُقَامُ أَحَدِہِمْ سَاعَةً،خَيْرٌ مِنْ عَمَلِ أَحَدِكُمْ عُمُرَہُ” [ابن ماجہ: 162]

حضرت نسیر بن ذعلوق رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے: محمد ﷺ کے صحابہ کو برا نہ کہو، ایک صحابی کا(نبی اکرم ﷺ کی صحبت میں) گھڑی بھر ٹھہرنا،تم میں سے کسی کی زندگی بھر کے عملوں سے بہتر ہے۔
سندہ، صحیح
ھذا ما عندی واللہ اعلم باالصواب

فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
بارك الله فيكم
میرا گمان ہے کہ یہ أثر مولانا علوی صاحب کے علم میں ہے کیونکہ وہ ایک پختہ عالم دین ہیں۔

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ