سوال       6804

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ شیخ!
فوت شدہ جو لوگ ہیں ل، وہ دنیا کے معاملات اپنے گھر والوں کے معاملات سے بے خبر ہو جاتے ہیں، جو لوگ قبر پر فرط جذبات سے باتیں کرتے ہیں، قبر والے کے ساتھ کیا وہ سنتے ہیں یا نہیں؟ قبر والے کو سلام کرتے ہیں، کیا وہ سلام ان تک پہنچتا ہے؟

جواب

قبر والوں کو صرف اللہ رب العالمین ہی سنواتا ہے اور جس کی وہ بات چاہتا ہے۔ عمومی طور پر یہ بات ہے کہ قبر والے نہیں سنتے، اس لیے آپ اپنی بات انہیں نہیں سنا سکتے۔ یہ عام قاعدہ ہے۔
سلام ایک ادب، تحیہ اور دعا ہے جو ہمیں سکھائی گئی ہے، اور ہم اسے من و عن کے مطابق بجا لاتے ہیں، جیسا کہ ہمیں کہا گیا ہے۔ اس میں سماعِ موتیٰ یا مردے کے سننے کا کوئی عقیدہ ثابت نہیں ہوتا۔ یہ حکمِ نبوی ہے اور ہم اس پر عمل کرتے ہیں۔
جہاں تک یہ سوال ہے کہ آیا مردے کو آنے جانے والے کی خبر ہوتی ہے یا وہ سنتے ہیں، تو اس بارے میں کوئی صحیح روایت موجود نہیں ہے۔ صرف ضعیف روایات ہیں، جن پر بعض فقہاء، جیسے حنابلہ، نے عقیدہ قائم کیا، لیکن یہ روایت ثبوت کی حد تک معتبر نہیں ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ