سوال (3279)

اگر امام رکعت میں ایک سجدہ بھول جائے اور نماز مکمل کرنے کے بعد اسے مقتدی یاد دلائے تو اسے کیا کرنا چاہیے؟ دوسری صورت یہ ہے کہ اگر کوئی ایک سجدہ اضافی کر لے تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

سوال میں جو پہلی بات پوچھی گئی ہے کہ سجدہ رہ جائے، جس رکعت میں سجدہ رہ جائے، وہ رکعت نہیں ہوگی، اس لیے کہ سجدہ فرض اور رکن ہے، اگر سلام پھیرنے کے بعد کسی نے بتایا ہے تو ایک رکعت پڑھیں، تمام دعاؤں کے بعد سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے سہو کے کیے جائیں، اس طرح نماز مکمل کی جائے، سوال میں دوسری بات پوچھی گئی ہے کہ ایک سجدہ زائد ہوگیا ہے تو اس صورت میں دو سجدے سہو کیے جائیں۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

سائل: اگر سجدہ بھول گیا تو سجدہ سہو ہو گا یا رکعت دوبارہ پڑھنے پڑے گی؟

جواب: سجدہ رکن ہے، اسکے بغیر رکعت نہیں ہوتی، لہذا وہ رکعت دہرانی ہوگی پھر سجدہ سھو کیا جائے گا۔

فضیلۃ العالم فہد انصاری حفظہ اللہ

سوال: اگر رکعت میں ایک سجدہ کرنا بھول جائیں تو کیا رکعت دوبارہ پڑھنی چاہیے یا سجدہ سہو کر لیں۔

جواب: یہاں سجدہ سہو ہے، اس لیے کہ رکن رہ گیا ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الرزاق زاہد حفظہ اللہ

شیخ محترم  رکن چھوٹنے پہ اسکو دہرانا یا رکعت دہرانا لازم نہیں یے؟

فضیلۃ العالم ارشد حفظہ اللہ

سائل: کیا وہ رکعت بھی دہرائی جائ گی جس میں سجدہ بھولے تھے یا صرف سجدہ سہو کافی ہے؟

جواب: ان شاءاللہ رکعت دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الرزاق زاہد حفظہ اللہ