سوال (6262)
اگر سخت سردی ہو اور گرم پانی میسر نہ ہو، اور یہ غالب گمان ہو کہ ٹھنڈے پانی سے غسل کرنے پر بیماری لاحق ہو سکتی ہے تو ایسی صورت میں تیمم کرنا جائز ہے؟
جواب
اگر حقیقتا ایسا ہے تو بلاشبہ تیمم کر سکتے ہیں۔ والله أعلم بالصواب
فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ
سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
کیا آج کل کی سردی میں غسل کی جگہ تیمم کیا جا سکتا ہے؟
جواب: وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
غسل یا وضو کی جگہ تیمم کی گنجائش اس صورت میں ہے کہ یا تو پانی موجود نہ ہو یا پھر پانی کا استعمال انسان کے لیے ہلاکت کا ذریعہ بن سکتا ہو، آج کل سردی میں پانی سے نہانا بالخصوص جب تازہ یا گرم پانی کی سہولت موجود ہے، مہلک یا مضر صحت نہیں بلکہ مفید ہے، یہ عمومی بات ہے، البتہ اگر کسی شخص کی حالت و کیفیت اس طرح کی ہو کہ پانی کا استعمال اس کے لیے ضرر یا ہلاکت کا باعث بن سکتا ہو تو اس کے لیے تیمم کی گنجائش ہے۔ دلیل وہی معروف حدیث ہے، جس میں ایک صحابی سردی میں غسل کے باعث وفات پا گئے تھے!
فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ




