سوال 6861
ما کان یزید والی حدیث 8 تراویح کی دلیل کے طور پر ہم بیان کرتے ہیں، اس میں الفاظ ہیں یصلی اربعا۔۔۔ احناف کہتے ہیں کہ اگر یہ تراویح کی دلیل ہے تو چار رکعات اکھٹی کیوں نہیں پڑھتے؟ اس کا جواب مطلوب ہے؟
جواب
تمام ادلہ کو جب دیکھا جاتا ہے تو پھر اندازہ ہوتا ہے کہ روایات کے بارے میں کیا فیصلہ کرنا ہے۔ اس موضوع کی تمام روایات کو جمع کیا جائے تو بات واضح ہوتی ہے: “صلاۃ اللیل مثنیٰ مثنیٰ” رات کی نماز دو دو رکعت ہے۔
یہی عام قاعدہ ہے۔ البتہ اگر کسی نے ظاہر کو دیکھتے ہوئے چار رکعت پڑھ لیں تو ہم اس پر کوئی فتویٰ نہیں دیتے، لیکن اصول اور عام طریقہ یہی ہے کہ دو دو کر کے پڑھی جاتی تھی، پڑھی جاتی ہیں اور پڑھنی چاہئیں۔
جہاں تک احناف کا تعلق ہے تو ان کے اپنے مسائل ہیں۔ وہ ہم سے کیوں الجھنا چاہتے ہیں، سمجھ نہیں آتا۔ بات گھوم پھر کر وہیں لے آتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیں۔
جن کی آنکھ بند ہو رہی ہے اور وہ علم رکھتے تھے، تو صاف بات ہے کہ اگر وہ بدعت پر قائم ہیں تو یہ وہ دین نہیں جو اللہ نے محمدِ کریم ﷺ کو دیا تھا۔ ان کا عمل بدعت سے شروع ہوتا ہے اور بدعت پر ختم ہوتا ہے۔ ان کا منہج اور مکتبِ فکر بدعات سے شروع ہو کر بدعت پر تمام ہوتا ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




