سوال 6597
شیخ صاحب یہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم یہاں پہ “واٰلہ” لفظ ہے کہ نہیں ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جو درود بھیجا جاتا ہے تو اس میں واٰلہ کہنا چاہیے یا نہیں؟
جواب
’’آل‘‘ کا لفظ دلائل سے ثابت ہے، جیسا کہ درود میں آتا ہے: «اللهم صلِّ على آلِ محمد»۔
لہٰذا جب ہم اختصار کے طور پر یہ پڑھتے ہیں: بسم اللہ، والصلاة والسلام على رسول الله، وعلى آله وصحبه أجمعين تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ ’’آل‘‘ کا لفظ شرعی دلائل کی رو سے ثابت اور درست ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ
سائل: شیخ صاحب پوچھنا اصل میں یہ نہیں تھا کہ یہ ثابت ہے یا نہیں اصل میں مسئلہ یہ تھا کہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم یہاں پر جو یہ لفظ ہے یہ والہ یہاں پر ثابت ہے کہ یہاں پر ثابت نہیں ہے ویسے تو اٰل پر درود بھیجا جاتا ہے جیسے (اللہم صلی علی) لیکن سوال یہ تھا کہ صلی اللہ علیہ میں یہ پڑھنا کیا ثابت ہے یا نہیں؟
جواب: دیکھیے، «صلى الله عليه وسلم» کا صیغہ مسلم شریف اور دیگر کتبِ حدیث میں موجود ہے۔ اسی طرح بعض روایات میں «وآله» یا «وآله وأزواجه وذريته» جیسے الفاظ بھی وارد ہوئے ہیں۔ اس لیے اس معاملے میں سختی کی کوئی ضرورت نہیں۔
البتہ اگر کوئی خاص الفاظ پر اصرار کرے کہ فلاں عبارت بعینہٖ کہاں وارد ہے یا نہیں، تو ہمارے علم میں اس کی صریح نص موجود نہیں، واللہ أعلم۔
فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ




