سوال 6774
رسول اللہ صلی الہ وسلم نے فرمایا: میں نے عورتوں کو دیکھا جن کی چھاتیوں کو سانپ نوچ رہے تھے، میں نے کہا: ان کا کیا ماجرا ہے؟ تو جواب دیا گیا۔ یہ وہ عورتیں ہیں جو اپنے بچوں کو اپنا دودھ نہیں پلاتی تھیں۔ ابن خزیمہ 1986 صحیح، ابن حبان، حاکم
تشریح: یعنی جب کوئی اور دودھ پلانے والی نہ ملے، یا چہ کسی اور عورت کا دودھ نہ پئے تو ماں کو دودھ نہ پلانے کی وجہ سے یہ سزا ہوگی۔
شیخ محترم اس حدیث کی وضاحت کردیں۔ جزاک اللہ خیرا
جواب
اس کو بعض اہل علم نے قبول کیا ہے اور شیخ البانی نے بھی اس کی صحت کا اقرار کیا ہے۔ یہ معاملہ ان عورتوں کے بارے میں ہے جو دودھ نہ پلانے کے سلسلے میں بچے کو بے مقصد نقصان پہنچاتی ہیں۔ اگر اس میں کسی قسم کا ضرر پیچھے نہیں ہے تو اس میں گنجائش موجود ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عربوں کا دستور آپ کو معلوم ہے اور آج بھی بہت سے لوگ پیدائشی طور پر بچے کو دوسروں کے حوالے کر دیتے ہیں اور دائیاں اسے پالتی ہیں، تو اس صورت میں اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




