سوال (6448)
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک سرد رات میں مقام ضجنان پر اذان دی پھر فرمایا کہ لوگو ! اپنے اپنے ٹھکانوں میں نماز پڑھ لو اور ہمیں آپ نے بتلایا کہ نبی کریم ﷺ مؤذن سے اذان کے لیے فرماتے اور یہ بھی فرماتے کہ مؤذن اذان کے بعد کہہ دے کہ لوگو ! اپنے ٹھکانوں میں نماز پڑھ لو ۔ یہ حکم سفر کی حالت میں یا سردی یا برسات کی راتوں میں تھا۔ [صحیح البخاری: 632]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک ٹھنڈی اور برسات کی رات میں اذان دی، پھر یوں پکار کر کہہ دیا کہ لوگو! اپنی قیام گاہوں پر ہی نماز پڑھ لو۔ پھر فرمایا کہ نبی کریم ﷺ سردی و بارش کی راتوں میں مؤذن کو حکم دیتے تھے کہ وہ اعلان کر دے کہ لوگو اپنی قیام گاہوں پر ہی نماز پڑھ لو۔ [صحیح البخاری: 666]
جواب
اس کا تعلق سفر سے نہیں ہے، حضر سے ہے، یہ خاص صورتحال کے ساتھ خاص ہے، اب اس قدر سردی اور گھر سے نکلنا، آج کے دور میں گیزر ہے، سواریاں ہیں، ہزار قسم کے لباس ہیں، حدیث اپنی جگہ صحیح ہے، اگر واقعتا کوئی ایسی جگہ پہ رہتا ہے، وہاں سردی ہے، ٹھنڈ کی انتہا ہے، بارش ہے، خروج ممکن نہیں ہے، تو گھر میں پڑھ لے، اذان بھی دے دے، لیکن اگر اس قدر سہولتیں موجود ہیں، تو رخصتوں کو اس قدر رواج نہیں دینا چاہیے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
اگر بارش شدت سے ہو رہی ہو اور نمازیوں کا مسجد آکر نماز پڑھنا دشوار ہو تو اس صورت میں اذان کے کچھ الفاظ تبدیل ہوں گے, یاد رہے یہ ایک رخصت ہے, جو کہ عزر کی صورت میں قابل عمل ہے, اور سنت ہے لیکن اگر بارش کی زیادہ شدت نہ ہو اور نماز بآسانی مسجد آسکتے ہوں تو وہ نماز میں میں ہی ادا کریں
بارش کی صورت میں اذان کے الفاظ وہی *کہے جائیں گے لیکن “حی علی الصلوۃ, حی علی الفلاح” کی بجائے اس کی کی جگہ پر
اَلصَّلَاةُ فِی الرِّحَالِ.(بُخارى:616)
یا
اَلَا صَلُّوا فِی الرِّحَالِ.(بُخارى:632)
یا
صَلُّوا فِي بُیُوتِکُم.(بُخارى:901)
یا
صَلُّو فِي رِحَالِکُم، (اَبُو داؤد:936)سند،صحیح
کے الفاظ کہے جائیں گے.
یہی حکم نماز جمعہ کا ہے، بارش کی صورت میں گھر پر نماز ظہر ادا کی جاسکتی ہے۔ صحیح بخاری#901
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ صَاحِب الزِّيَادِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ، ابْنُ عَمِّ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لِمُؤَذِّنِهِ فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ: إِذَا قُلْتَ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ فَلَا تَقُلْ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، قُلْ صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ فَكَأَنَّ النَّاسَ اسْتَنْكَرُوا، قَالَ: فَعَلَهُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي إِنَّ الْجُمْعَةَ عَزْمَةٌ وَإِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أُحْرِجَكُمْ فَتَمْشُونَ فِي الطِّينِ وَالدَّحَضِ،
ترجمہ: عبداللہ بن عباس ؓ نے اپنے مؤذن سے ایک دفعہ بارش کے دن کہا کہ أشهد أن محمدا رسول الله کے بعد حى على الصلاة (نماز کی طرف آؤ) نہ کہنا بلکہ یہ کہنا کہ صلوا في بيوتكم (اپنے گھروں میں نماز پڑھ لو) لوگوں نے اس بات پر تعجب کیا تو آپ نے فرمایا کہ اسی طرح مجھ سے بہتر انسان (رسول اللہ ﷺ ) نے کیا تھا۔ بیشک جمعہ فرض ہے اور میں مکروہ جانتا ہوں کہ تمہیں گھروں سے باہر نکال کر مٹی اور کیچڑ پھسلوان میں چلاؤں۔
تنبیہ: اگر حی علی الصلوۃ,علی الفلاح کی بجائے الا صلو فی الرحال نہ کہا جائے لیکن مکمل اذان *دینے کے بعد یہ اعلان کرنا “صلو فی رحالکم” بھی جائز ہے۔ بخاری#666ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب
فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ




