سوال    6668

السلام علیکم و رحمة الله و بركاته!
کیا صعصعہ بن ناجیہ کے متعلق بیان کیا جانے والا واقعہ ثابت ہے؟

جواب

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
اس کی سند میں کلام ہے، پہلے اس پر تفصیلاً بات ہو چکی ہے۔
حدیث کی اسنادی حیثیت: (1) اس حدیث کو علامہ ہیثمی رحمہ اللہ (م 807 ھ ) نے ” مجمع الزوائد ” 1/ 276 ، رقم الحدیث (338) کتاب الایمان / باب فیمن عمل خيرا ثم اسلم، ط: دار الفکر، میں امام طبرنی اور امام بزار رحمہما اللہ کے حوالے سے نقل کر کے فرمایا ہے: اس حدیث کی سند میں طفیل بن عمرو التمیمی ” ہیں، ان کے متعلق امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا ہے: ان کی حدیث ” صحیح ” نہیں ہے اور امام عقیلی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے: ان کی حدیث کی متابعت نہیں کی جاتی ہے، یعنی یہ روایت کرنے میں منفرد ہیں۔
(2) تاہم امام حاکم رحمہ اللہ (م 405 ھ) نے “مستدرک حاکم ” میں اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد اس پر سکوت فرمایا ہے، نیز امام ذہبی رحمہ اللہ (م 748ھ) نے بھی تلخیص المستدرک ” میں اس حدیث پر سکوت فرمایا ہے۔
(3) مزید یہ کہ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ (م) 852ھ) نے “لسان المیزان ” 4/ 353 میں ” طفیل بن عمر والتمیمی ” کے تذکرے میں فرمایا ہے: طفیل کو امام ابن حبان رحمہ اللہ نے “الثقات ” میں نقل فرمایا ہے۔ گویا حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ کے نزدیک طفیل بن عمر و ضعیف راوی نہیں ہیں۔ ایک خلاصہ: اس حدیث کے راوی “طفیل بن عمرو” پر محدثین کا کلام ہے، بعض محدثین نے انہیں ضعیف قرار دیا ہے۔
اور بعض محدثین نے انہیں ثقہ قرار دیا ہے، مختلف فیہ ہونے کی وجہ سے یہ حدیث ضعیف ہے، تاہم چوں کہ اس حدیث کا ضعف شدید نہیں ہے، اس لیے گویا حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ کے نزدیک تحصیل بن عمر و ضعیف راوی نہیں ہیں۔
ایک خلاصہ: اس حدیث کے راوی “طفیل بن عمرو” پر محدثین کا کلام ہے، بعض محدثین نے انہیں ضعیف قرار دیا ہے اور بعض محدثین نے انہیں ثقہ قرار دیا ہے، مختلف فیہ ہونے کی وجہ سے یہ حدیث ضعیف ہے، تاہم چونکہ اس حدیث کا ضعف شدید نہیں ہے، اس لیے اس حدیث کو ضعف کی صراحت کے ساتھ بیان کیا جا سکتا ہے۔
ثبوت: عظیم لغت: (حدیث نمبر: 7412، 76/8، مطبوعہ: الرشد لائبریری)

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
سخت ضعیف,جھوٹا قصہ ہے
اس کی سند اس طرح ہے: المعجم الکبیر للطبرانی#7412

حدثنا محمد بن زكريا الغلابي، ثنا العلاء بن الفضل، ح وحدثني أبو أمية سلم بن عصام الأصبهاني الثقفي، ثنا العباس بن الفرج الرياشي، ثنا العلاء بن الفضل بن عبد الملك، ثنا عباد بن كسيب أبو الحساب العنبري، ثنا طفيل بن عمرو الربعي ربيعة بن مالك بن حنظلة إخوة عجيف، عن صعصعة بن ناجية المجاشعي، وهو جد الفرزدق بن غالب بن صعصعة قال: قدمت على النبي ﷺ، فعرض علي الإسلام فأسلمت، وعلمني آيا من القرآن فقلت: يا رسول الله، إني عملت أعمالا في الجاهلية، فهل لي فيها أجر؟ قال: «وما عملت؟» فقلت: إني ضلت ناقتان لي عشراوان، فخرجت أبتغيها على جمل لي، فرفع لي بيتان في فضاء من الأرض…..

طفیل بن عمرو,ضعیف راوی ہے اسی طرح ثنا العلاء بن الفضل پر بھی جرح ہے.
سندہ,ضعیف جداً غیرُثابت
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ

وعليكم السلام و رحمة الله و بركاته
الحمدلله رب العالمين
أيها الدكتور الفاضل کیسے ہیں آپ
جی یہ واقعہ غیر ثابت ہے
کچھ تفصیل پیش خدمت ہے۔
حافظ ہیثمی اس روایت کے بعد کہتے:

ﺭﻭاﻩ اﻟﻄﺒﺮاﻧﻲ ﻓﻲ اﻟﻜﺒﻴﺮ ﻭاﻟﺒﺰاﺭ، ﻭﻓﻴﻪ اﻟﻄﻔﻴﻞ ﺑﻦ ﻋﻤﺮﻭ اﻟﺘﻤﻴﻤﻲ، ﻗﺎﻝ اﻟﺒﺨﺎﺭﻱ: ﻻ ﻳﺼﺢ ﺣﺪﻳﺜﻪ. ﻭﻗﺎﻝ اﻟﻌﻘﻴﻠﻲ: ﻻ ﻳﺘﺎﺑﻊ ﻋﻠﻴﻪ
مجمع الزوائد: (338)
ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﻣﻮﺳﻰ، ﻧﺎ اﻟﻌﻼء ﺑﻦ اﻟﻔﻀﻞ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﻤﻠﻚ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﺳﺮﻳﺔ اﻟﻤﻨﻘﺮﻱ ﺃﺑﻮ اﻟﻬﺬﻳﻞ، ﻧﺎ ﻋﺒﺎﺩ ﺑﻦ ﻛﺮﻳﺐ( بل هو كسيب)، ﺣﺪﺛﻨﻲ ﻃﻔﻴﻞ ﺑﻦ ﻋﻤﺮﻭ، ﻋﻦ ﺻﻌﺼﻌﺔ ﺑﻦ ﻧﺎﺟﻴﺔ ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻪ ﻗﺎﻝ: ﻗﺪﻣﺖ ﻋﻠﻰ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻓﻌﺮﺽ ﻋﻠﻲ اﻹﺳﻼﻡ ﻓﺄﺳﻠﻤﺖ، ﻭﻋﻠﻤﻨﻲ ﺁﻳﺎﺕ ﻣﻦ اﻟﻘﺮﺁﻥ، ﻓﻘﻠﺖ: ﻳﺎ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ، ﺇﻧﻲ ﻋﻤﻠﺖ ﺃﻋﻤﺎﻻ ﻓﻲ اﻟﺠﺎﻫﻠﻴﺔ، ﻓﻬﻞ ﻟﻲ ﻣﻨﻬﺎ ﻣﻦ ﺃﺟﺮ؟ ﻗﺎﻝ: ﻭﻣﺎ ﻋﻤﻠﺖ؟ ، ﻓﻘﻠﺖ: ﺿﻠﺖ ﻧﺎﻗﺘﺎﻥ ﻟﻲ ﻋﺸﺮاﻭﻳﻦ ﻓﺨﺮﺟﺖ ﺃﺑﻐﻴﻬﻤﺎ ﻋﻠﻰ ﺟﻤﻞ ﻟﻲ، ﻓﺮﻓﻊ ﻟﻲ ﺑﻦﻳﺎﻥ ﻓﻲ ﻓﻀﺎء ﻣﻦ اﻷﺭﺽ، ﻓﻘﺼﺪﺕ ﻗﺼﺪﻫﺎ، ﻓﻮﺟﺪﺕ ﻓﻲ ﺃﺣﺪﻫﻤﺎ ﺷﻴﺨﺎ ﻛﺒﻴﺮا ﻓﻘﻠﺖ: ﺣﺴﺴﺖ ﻧﺎﻗﺘﻴﻦ ﻋﺸﺮاﻭﻳﻦ؟ ﻗﺎﻝ: ﻭﻣﺎ ﻧﺎﺭﻫﻤﺎ؟ ﻗﻠﺖ: ﻣﻴﺴﻢ ﺑﻦﻳ ﺩاﺭﻡ، ﻗﺎﻝ: ﻗﺪ ﻭﺟﺪﻧﺎ ﻭﻳﺤﻴﺎ ﺑﻬﻤﺎ ﻭﻇﺌﺮاﻫﻤﺎ ﻋﻠﻰ ﺃﻭﻻﺩﻫﻤﺎ، ﻭﻗﺪ ﻳﻌﻴﺶ ﺑﻬﻤﺎ ﺃﻫﻞ ﺑﻴﺘﻴﻦ ﻣﻦ ﻗﻮﻣﻚ ﻣﻦ اﻟﻌﺮﺏ ﻣﻦ ﻣﻀﺮ، ﻓﺒﻴﻨﻤﺎ اﻟﺮﺟﻞ ﻳﺨﺎﻁﺑﻦﻳ ﺇﺫ ﻧﺎﺩﺗﻪ اﻣﺮﺃﺓ ﻣﻦ اﻟﺒﻴﺖ اﻵﺧﺮ: ﻗﺪ ﻭﻟﺪﺕ، ﻗﺪ ﻭﻟﺪﺕ، ﻗﺎﻝ: ﻣﺎ ﻭﻟﺪﺕ؟ ﺇﻥ ﻛﺎﻥ ﻏﻼﻣﺎ ﻓﻘﺪ ﺷﺮﻛﻨﺎ ﻓﻲ ﻗﻮﻣﻨﺎ، ﻭﺇﻥ ﻛﺎﻧﺖ ﺟﺎﺭﻳﺔ ﻓﺎﺩﻓﻨﺎﻫﺎ، ﻓﻘﺎﻟﺖ: ﺟﺎﺭﻳﺔ ، ﻓﻘﻠﺖ: ﻭﻣﺎ ﻫﺬﻩ اﻟﻤﻮﻟﻮﺩﺓ؟ ﻓﻘﺎﻝ: اﺑﻦﺓ ﻟﻲ، ﻓﻘﻠﺖ: ﺃﻧﺎ ﺃﺷﺘﺮﻳﻬﺎ ﻣﻨﻚ، ﻗﺎﻝ: ﻳﺎ ﺃﺧﺎ ﺗﻤﻴﻢ ﺃﺗﻘﻮﻝ ﻟﻲ: ﺑﻊ اﺑﻦﺗﻚ ﻭﻗﺪ ﺃﺧﺒﺮﺗﻚ ﺃﻧﻲ ﺭﺟﻞ ﻣﻦ اﻟﻌﺮﺏ ﻣﻦ ﻣﻀﺮ؟ ﻓﻘﻠﺖ: ﺇﻧﻲ ﻻ ﺃﺷﺘﺮﻱ ﻣﻨﻚ ﺭﻗﺒﺘﻬﺎ، ﻭﻟﻜﻦ ﺃﺷﺘﺮﻱ ﻣﻨﻚ ﺭﻭﺣﻬﺎ، ﺃﻥ ﻻ ﺗﻘﺘﻠﻬﺎ، ﻗﺎﻝ: ﺑﻢ ﺗﺸﺘﺮﻳﻬﺎ؟ ﻗﻠﺖ: ﺑﻦاﻗﺘﻲ ﻫﺎﺗﻴﻦ، ﻭﺑﻮﻟﺪﻳﻬﻤﺎ، ﻗﺎﻝ: ﻭﺗﺰﻳﺪﻧﻲ ﺑﻌﻴﺮﻙ ﻫﺬا؟ ﻓﻘﻠﺖ: ﻧﻌﻢ، ﻋﻠﻰ ﺃﻥ ﺗﺒﻌﺚ ﻣﻌﻲ ﺭﺳﻮﻻ، ﻓﺈﺫا ﺑﻠﻐﺖ ﺃﻫﻠﻲ ﺭﺩﺩﺗﻪ ﺇﻟﻴﻚ، ﻓﻔﻌﻞ، ﻓﻠﻤﺎ ﺑﻠﻐﺖ ﺃﻫﻠﻲ ﺭﺩﺩﺕ ﺇﻟﻴﻪ اﻟﺒﻌﻴﺮ، ﻓﻠﻤﺎ ﻛﺎﻥ ﻓﻲ ﺑﻌﺾ اﻟﻠﻴﻞ ﻓﻜﺮﺕ ﻓﻲ ﻧﻔﺴﻲ ﻓﻘﻠﺖ: ﺇﻥ ﻫﺬﻩ ﻟﻤﻜﺮﻣﺔ ﻣﺎ ﺳﺒﻘﻨﻲ ﺇﻟﻴﻬﺎ ﺃﺣﺪ ﻣﻦ اﻟﻌﺮﺏ، ﻓﻈﻬﺮ اﻹﺳﻼﻡ ﻭﻗﺪ ﺃﺣﻴﻴﺖ ﺛﻼﺙ ﻣﺎﺋﺔ ﻭﺳﺘﻴﻦ ﻣﻦ اﻟﻤﻮءﻭﺩﺓ، ﻛﻞ ﻭاﺣﺪﺓ ﻣﻨﻬﻦ ﺑﻦاﻗﺘﻴﻦ ﻋﺸﺮاﻭﻳﻦ ﻭﺟﻤﻞ، ﻓﻬﻞ ﻟﻲ ﻓﻲ ﺫﻟﻚ ﻣﻦ ﺃﺟﺮ؟ ﻓﻘﺎﻝ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ: ﻫﺬا ﺑﺎﺏ ﻣﻦ اﻟﺒﺮ ﻭﻟﻚ ﺃﺟﺮﻩ، ﺇﺫ ﻣﻦ اﻟﻠﻪ ﻋﺰ ﻭﺟﻞ ﻋﻠﻴﻚ ﺑﺎﻹﺳﻼﻡ
الآحاد والمثانی: (1199)
ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺯﻛﺮﻳﺎ اﻟﻐﻼﺑﻲ، ﺛﻨﺎ اﻟﻌﻼء ﺑﻦ اﻟﻔﻀﻞ، ﺣ ﻭﺣﺪﺛﻨﻲ ﺃﺑﻮ ﺃﻣﻴﺔ ﺳﻠﻢ ﺑﻦ ﻋﺼﺎﻡ اﻷﺻﺒﻬﺎﻧﻲ اﻟﺜﻘﻔﻲ، ﺛﻨﺎ اﻟﻌﺒﺎﺱ ﺑﻦ اﻟﻔﺮﺝ اﻟﺮﻳﺎﺷﻲ، ﺛﻨﺎ اﻟﻌﻼء ﺑﻦ اﻟﻔﻀﻞ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﻤﻠﻚ، ﺛﻨﺎ ﻋﺒﺎﺩ ﺑﻦ ﻛﺴﻴﺐ ﺃﺑﻮ اﻟﺤﺴﺎﺏ اﻟﻌﻨﺒﺮﻱ، ﺛﻨﺎ ﻃﻔﻴﻞ ﺑﻦ ﻋﻤﺮﻭ اﻟﺮﺑﻌﻲ ﺭﺑﻴﻌﺔ ﺑﻦ ﻣﺎﻟﻚ ﺑﻦ ﺣﻨﻈﻠﺔ ﺇﺧﻮﺓ ﻋﺠﻴﻒ، ﻋﻦ ﺻﻌﺼﻌﺔ ﺑﻦ ﻧﺎﺟﻴﺔ اﻟﻤﺠﺎﺷﻌﻲ، ﻭﻫﻮ ﺟﺪ اﻟﻔﺮﺯﺩﻕ ﺑﻦ ﻏﺎﻟﺐ ﺑﻦ ﺻﻌﺼﻌﺔ۔۔۔۔۔۔
طبرانی کبیر:(7412)
ﺃﺧﺒﺮﻧﺎ ﺃﺑﻮ ﺑﻜﺮ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ اﻟﺤﻔﻴﺪ، ﺛﻨﺎ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺯﻛﺮﻳﺎ اﻟﻐﻼﺑﻲ، ﺛﻨﺎ اﻟﻌﻼء ﺑﻦ اﻟﻔﻀﻞ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﻤﻠﻚ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﺳﻮﻳﺔ اﻟﻤﻨﻘﺮﻱ، ﺛﻨﺎ ﻋﺒﺎﺩﺓ ﺑﻦ ﻛﺮﻳﺐ( والصواب هو عباد بن كسيب)، ﺣﺪﺛﻨﻲ اﻟﻄﻔﻴﻞ ﺑﻦ ﻋﻤﺮ اﻟﺮﺑﻌﻲ، ﻋﻦ ﺻﻌﺼﻌﺔ ﺑﻦ ﻧﺎﺟﻴﺔ اﻟﻤﺠﺎﺷﻌﻲ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مستدرک حاکم :(6562)
ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﺑﻜﺮ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ اﻟﻨﻀﺮ، ﻗﺎﻝ: ﺣﺪﺛﻨﺎ اﻟﻌﻼء ﺑﻦ اﻟﻔﻀﻞ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﻤﻠﻚ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﺳﻮﻳﺔ، ﻗﺎﻝ: ﺣﺪﺛﻨﻲ ﻋﺒﺎﺩ ﺑﻦ ﻛﺴﻴﺐ، ﻋﻦ ﻃﻔﻴﻞ ﺑﻦ ﻋﻤﺮﻭ، ﻋﻦ ﺻﻌﺼﻌﺔ ﺑﻦ ﻧﺎﺟﻴﺔ اﻟﻤﺠﺎﺷﻌﻲ، ﻭﻫﻮ ﺟﺪ اﻟﻔﺮﺯﺩﻕ ﺑﻦ ﻏﺎﻟﺐ؛ ﻗﺎﻝ: ﻗﺪﻣﺖ ﻋﻠﻰ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ اﻟﻤﺪﻳﻨﺔ ﻓﻌﺮﺽ ﻋﻠﻲ اﻹﺳﻼﻡ ﻓﺄﺳﻠﻤﺖ ﻭﻋﻠﻤﻨﻲ (ﺁﻳﺎ ﻣﻦ اﻟﻘﺮﺁﻥ)
التاريخ الكبير لابن أبي خيثمة السفر الثاني : :(1147)
ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺇﺳﻤﺎﻋﻴﻞ ﺑﻦ ﺇﺳﺤﺎﻕ اﻟﻘﺎﺿﻲ ﻧﺎ اﻟﻌﻼء ﺑﻦ اﻟﻘﺼﺎﺭ ﺣ ﻭﺣﺪﺛﻨﻲ ﺃﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﺯﻫﻴﺮ ﺣﺪﺛﻨﻲ ﺃﺑﻮ ﺑﻜﺮ ﺑﻦ اﻟﻨﻀﺮ ﻧﺎ اﻟﻌﻼء ﺑﻦ اﻟﻔﻀﻞ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﺣﻴﻮﻳﺔ ﻧﺎ ﻋﺒﺎﺩ ﺑﻦ ﻛﺴﻴﺐ ﻋﻦ ﻃﻔﻴﻞ ﺑﻦ ﻋﻤﺮﻭ ﻋﻦ ﺻﻌﺼﻌﺔ ﺑﻦ ﻧﺎﺟﻴﺔ اﻟﻤﺠﺎﺷﻌﻲ ﻭﻫﻮ ﺟﺪ اﻟﻔﺮﺯﺩﻕ ﺑﻦ ﻏﺎﻟﺐ ﻗﺎﻝ: ﻗﺪﻣﺖ ﻋﻠﻰ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻓﻌﺮﺽ ﻋﻠﻲ اﻹﺳﻼﻡ ﻓﺄﺳﻠﻤﺖ ﻭﻋﻠﻤﻨﻲ ﺁﻳﺎﺕ ﻣﻦ اﻟﻘﺮﺁﻥ ﻓﺬﻛﺮ ﺣﺪﻳﺜﺎ ﻃﻮﻳﻼ
معجم الصحابة للبغوى :3/ 374
اور دیکھیے معرفة الصحابة لأبى نعيم الأصبهاني :(3877 ،3878 ،3879)
ﻗﺎﻝ ﻟﻲ اﻟﻌﻼء ﺑﻦ اﻟﻔﻀﻞ: ﺣﺪﺛﻨﻲ ﻋﺒﺎﺩ ﺑﻦ ﻛﺴﻴﺐ، ﺣﺪﺛﻨﻲ ﻃﻔﻴﻞ ﺑﻦ ﻋﻤﺮﻭ، ﻋﻦ ﺻﻌﺼﻌﺔ ﺑﻦ ﻧﺎﺟﻴﺔ اﻟﻤﺠﺎﺷﻌﻲ؛ ﻗﺪﻣﺖ ﻋﻠﻰ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ، ﻓﻌﺮﺽ ﻋﻠﻲ اﻹﺳﻼﻡ، ﻓﺄﺳﻠﻤﺖ، ﻭﻋﻠﻤﻨﻲ ﺁﻳﺎ ﻣﻦ اﻟﻘﺮﺁﻥ، ﻗﻠﺖ: ﻳﺎ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ، ﺇﻧﻲ ﻋﻤﻠﺖ ﺃﻋﻤﺎﻻ ﻓﻲ اﻟﺠﺎﻫﻠﻴﺔ، ﻓﻬﻞ ﻟﻲ ﻓﻴﻬﺎ ﻣﻦ ﺃﺟﺮ؟ ﻗﺎﻝ: ﻟﻚ ﺃﺟﺮﻩ، ﺇﺫ ﻣﻦ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻚ ﺑﺎﻹﺳﻼﻡ.
التاریخ الکبیر للبخاری: 4/ 319

امام بخاری اس کے نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں
ﻓﻴﻪ ﻧﻈﺮ ایضا:
امام بخاری نے طفیل بن عمرو کے ترجمہ میں کہا: لم ﻳﺼﺢ ﺣﺪﻳﺜﻪ
التاریخ الکبیر للبخاری :4/ 364
یہاں طفیل عن صعصعة بن ناجية ﺭﻭﻯ ﻋﻨﻪ ﻋﺒﺎﺩ ﺑﻦ ﻛﺴﻴﺐ کے بعد یہ جرح کی ہے امام بخاری نے جس کا مطلب ہے کہ یہ روایت کسی صورت ثابت نہیں ہے
حافظ ذہبی نے کہا:

اﻟﻄﻔﻴﻞ ﺑﻦ ﻋﻤﺮﻭ اﻟﺘﻤﻴﻤﻲ.
ﻋﻦ ﺻﻌﺼﻌﺔ ﺑﻦ ﻧﺎﺟﻴﺔ.
ﻻ ﻳﻌﺮﻑ.
ﻭﻗﺎﻝ اﻟﻌﻘﻴﻠﻲ: ﻻ ﻳﺘﺎﺑﻊ ﻋﻠﻰ ﺣﺪﻳﺜﻪ.
ﻭﻗﺎﻝ اﻟﺒﺨﺎﺭﻱ: ﻻ ﻳﺼﺢ ﺣﺪﻳﺜﻪ
میزان الاعتدال: (3993)

امام عقیلی نے کہا:

ﻃﻔﻴﻞ ﺑﻦ ﻋﻤﺮﻭ اﻟﺘﻤﻴﻤﻲ ﺑﺼﺮﻱ ﻻ ﻳﺘﺎﺑﻊ ﻋﻠﻰ ﺣﺪﻳﺜﻪ، ﻭﻻ ﻳﻌﺮﻑ ﺇﻻ ﺑﻪ. ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺁﺩﻡ ﺑﻦ ﻣﻮﺳﻰ ﻗﺎﻝ: ﺳﻤﻌﺖ اﻟﺒﺨﺎﺭﻱ ﻗﺎﻝ: ﻃﻔﻴﻞ ﺑﻦ ﻋﻤﺮﻭ اﻟﺘﻤﻴﻤﻲ، ﻋﻦ ﺻﻌﺼﻌﺔ ﺑﻦ ﻧﺎﺟﻴﺔ، ﻗﺎﻝ اﻟﺒﺨﺎﺭﻱ: ﻭﻻ ﻳﺼﺢ
الضعفاء الکبیر للعقیلی: (775)2/ 227

امام عقیلی نے آگے اسی مقام پر یہ والی روایت نقل کی جس سے ثابت ہوا یہ روایت امام عقیلی کے نزدیک ضعیف ہے۔
امام بخاری ﻋﺒﺎﺩ ﺑﻦ ﻛﺴﻴﺐ کے ترجمہ میں کہتے ہیں:

ﺳﻤﻊ ﻃﻔﻴﻞ ﺑﻦ ﻋﻤﺮﻭ.
ﺭﻭﻯ ﻋﻨﻪ اﻟﻌﻼء ﺑﻦ اﻟﻔﻀﻞ، ﻻ ﻳﺼﺢ
التاریخ الکبیر للبخاری :6/ 40

حافظ ذہبی نقل کرتے ہیں:

ﻋﺒﺎﺩ ﺑﻦ ﻛﺴﻴﺐ.
ﻋﻦ اﻟﻄﻔﻴﻞ ﺑﻦ ﻋﻤﺮﻭ.
ﻗﺎﻝ اﻟﺒﺨﺎﺭﻱ: ﻻ ﻳﺼﺢ ﺣﺪﻳﺜﻪ
میزان الاعتدال: (4136)

الحاصل یہ سارا واقعہ غیر ثابت ہے البتہ بچیوں کو ژندہ دفن کرنا اس معاشرہ میں عام تھا اور یہ بھی ثابت ہے کہ اسلام قبول کرنے سے گزشتہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور باری تعالی انہیں نیکیوں میں بدلنے میں بھی قادر ہیں بلکہ قرآن پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے گناہ نیکیوں میں بدل دیے جاتے ہیں ( مفھوما)
والله أعلم بالصواب

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ

سائل: بارك الله فيكم وعافاكم
طفیل بن عمرو کی کن محدثین نے توثیق کی ہے؟
صاحب مضمون کون ہیں؟
جواب: السلام علیکم ورحمة الله وبركاته۔ شیخ بارک اللہ فیک وعافاک وسلمک۔ غالباً یہ سلفی نہیں ہیں ان کی ویب سائٹ پہ یہ مضمون ہے ان کے پیج پہ ہے یا یہ ان کا یہ لنک ہے جو دیکھا جا سکتا ہے۔
https://share.google/VTd4e52ktt7wo631u

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
جی شیخ صاحب اس راوی کی کسی بھی ناقد امام نے صریح توثیق نہیں کی ہے اس کے برعکس ائمہ جھابذہ کا فیصلہ موجود ہے۔

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ