سوال 6686
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
محترم شیخ صاحب ایک سودا طے ہوگیا اس کی قیمت وصول کر لی گئی کوئی شرائط نہیں رکھی گئیں اس کے کئی دنوں بعد بائع اگر یہ کہے کہ قیمت بڑھ گئی ہے آپ مزید رقم بطور قیمت جمع کروادیں چونکہ شے کی لاگت میں میرا خرچہ اب بڑھ گیا ہے اگر آپ مزید رقم دیں گے تو آپ کا سودا حتمی ہوگا۔
کیا بائع بغیر مشتری کی مرضی کے ایسا کرے تو کیا شریعت نے اسے یہ اختیار دیا ہے؟
قرآن و حدیث کی روشنی میں راہ نمائی فرما دیں۔
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
جب سودا طے پا گیا، قیمت بھی مقرر ہو گئی اور پیمنٹ بھی وصول کر لی گئی، تو اس کے بعد قیمت بڑھانے کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔ اب سوال یہ ہے کہ پیچھے کیا رہ گیا ہے کہ دوبارہ قیمت بڑھائی جا رہی ہے؟ یا تو خریدار نے ابھی قبضہ نہیں لیا ہوگا اور اسی بنیاد پر اسے پھنسانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
بہرحال، شریعت کی رو سے یہ طریقہ جائز نہیں۔ جب ایک چیز طے ہو گئی، سودا فائنل ہو گیا اور پیسے بھی ادا ہو گئے، تو اس کے بعد قیمت بڑھانا صاف ظلم اور زیادتی ہے، اور اس کے سوا اس کا کوئی نام نہیں۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




