سعودی عاملین بالحدیث کا ہندی محسن

مولانا عبد الحلیم شرر رحمہ اللہ

مولانا عبد الحلیم شرر اردو ادب کے ایک ممتاز ناول نگار تھے جنہوں نے تاریخی اور اصلاحی ناولوں کے ذریعے بڑی شہرت حاصل کی۔
ان میں خاص طور پر فردوس بریں کو بہت زیادہ شہرت حاصل ہوئی، جو ایک تاریخی اور اصلاحی ناول ہے اور آج بھی اردو ادب میں اہم مقام رکھتا ہے
اسی طرح وہ مذہبی طور پر حنفی مناظر بھی مشہور ہوئے۔ عاملین بالحدیث سے ایک مناظرے کےاثر سے تقلید شخصی کے سحر سے آزاد ہو تے ہیں۔
تقدیر سید نذیر حسین محدث کے حضور پہنچا دیتی ہے جہاں نجد سے آئے ہوئے طلبا سے ملاقات ہوتی ہے جن کے پاس امام محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ کی کتاب التوحید کا ایک مستند نسخہ موجود تھا
مطالعہ کیا تو معلوم ہوا کہ ہندی احناف نے جس کتاب التوحید کی وجہ سے اس دور کی سب سے بڑی مسلم آبادی والے ملک مین شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب کی کتاب ،اور ان کے پیرو کاروں کو نشانہ ستم بنا رکھا ہے۔ وہ کتاب تو ہندی احناف کی جعل سازی ہے۔ اصل کتاب تو یہ ہے جو نذیر حسین کے شاگردوں کے پاس ہے
اس پر مولانا شرر نے اصل کتاب التوحید کا اردو تر جمہ کر کے شائع کر وا دیا۔ جس نے مقامی احناف کی جعل سازی کا پردہ چاک کر کے امام شیخ محمد بن عبد الوہاب اور ان کی کتاب اور ان کے پیرو کاروں کا مثبت اور منور چہرہ آشکار کیا
یہ تر جمہ ہند میں عاملین بالحدیث کے حق مین اٹھنے والی سب سے پہلی موثر اور توانا آواز تھی
اللہ تعالیٰ مولانا عبد الحلیم شرر اور ان کے معاونین کو جزائے خیر عطا فر مائے۔ ان کی لغزشوں کو تا ہیون سے در گذر فر مائے اور حسنات کو شرف قبول عطا فر مائے۔
یہ مضمون ڈاکٹر سلیمان اظہر کے تاثرات سے مرتب کیا ہے۔

(حافظ درانی )

یہ بھی پڑھیں: ہماری بے روح نمازیں