سوال 6625
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا کی عمرِ نکاح: ایک جدید تاریخی و تحقیقی جائزہ
عصرِ حاضر کے علمی اور مذہبی حلقوں میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا کی رخصتی کے وقت عمر کا تعین ایک انتہائی حساس اور پیچیدہ مسئلہ رہا ہے۔ صحیح بخاری اور دیگر کتب کی وہ مشہور روایت، جس میں نکاح کے وقت عمر چھ سال اور رخصتی کے وقت نو سال بیان کی گئی ہے، طویل عرصے سے نہ صرف مستشرقین کے اعتراضات کا ہدف رہی ہے بلکہ خود ‘جدید’ مسلم ذہن کے لیے بھی اضطراب کا باعث بنی ہے۔ روایتی طور پر، بہر حال، ہم کو اس روایت پر کوئی اعتراض نہیں ملتا۔ تاہم، آکسفورڈ یونیورسٹی کے محقق اور مؤرخ ڈاکٹر جوشوا لٹل نے اپنے ڈاکٹریٹ کے مقالے میں اس موضوع پر جو تحقیق پیش کی ہے، وہ روایتی مذہبی دفاع سے ہٹ کر خالصتاً جدید “تاریخی تنقید” کے مسلمہ اصولوں پر مبنی ہے۔
اس تحقیق کا مرکزی استدلال یہ ہے کہ تاریخی اور تحقیقی اعتبار سے کم عمری کی شادی والی یہ روایت پایہ ثبوت کو نہیں پہنچتی۔ محقق کا دعویٰ ہے کہ یہ حدیث نہ تو نبی اکرم ﷺ کا عمل ہے اور نہ ہی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا کا اپنا بیان کردہ قول، بلکہ یہ دوسری صدی ہجری کے وسط میں عراق کے شہر کوفہ میں گھڑی گئی ایک روایت ہے۔
اس تحقیق کی بنیاد جس طریقہ کار پر رکھی گئی ہے اسے اصطلاح میں “اسناد اور متن کا مشترکہ تجزیہ” کہا جاتا ہے۔
(ICMA) = Isnād-cum-matn analysis
عام طور پر روایتی علمِ حدیث میں راویوں کی ذاتی دیانت اور کردار پر زور دیا جاتا ہے، لیکن ڈاکٹر لٹل کا طریقہ کار یہ دیکھتا ہے کہ روایت کا متن تاریخ کے کس دور میں، کس جغرافیائی خطے میں، اور کن حالات میں منظرِ عام پر آیا۔ جب اس روایت کی تمام سندوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا، تو یہ بات کھل کر سامنے آئی کہ ان تمام سندوں کا سرا ایک ہی شخص پر جا کر ملتا ہے، اور وہ شخصیت “ہشام بن عروہ” کی ہے۔
یہاں پر یہ سمجھنا ضروری ہے کہ حالانکہ دیگر اسناد موجود ہیں لیکن ان پر گہری تحقیق سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان میں مخفی علل موجود ہیں۔ یعنی متن کا تجزیہ واضح کرتا ہے کہ متن کو در حقیقت سرقہ کیا گیا ہے۔ اس سرقہ کو اکثر روایتی محققین پہچان نہیں پائے۔
ہشام بن عروہ، جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا کے بھانجے عروہ بن زبیر کے بیٹے تھے، اپنی زندگی کے بیشتر حصے میں مدینہ منورہ میں مقیم رہے۔ ڈاکٹر لٹل کی تحقیق کا سب سے اہم اور چونکا دینے والا نکتہ یہی ہے کہ جب تک ہشام مدینہ میں رہے، انہوں نے کبھی یہ روایت بیان نہیں کی۔ مدینہ میں ان کے جلیل القدر شاگرد، جن میں مالک سرِ فہرست ہیں، ہشام سے بہت روایات نقل کرتے ہیں لیکن اس مخصوص روایت سے وہ بالکل ناواقف نظر آتے ہیں۔ یہ روایت اچانک اس وقت منظرِ عام پر آتی ہے جب ہشام اپنی عمر کے آخری حصے (تقریباً ۱۳۵ ہجری کے لگ بھگ) میں مدینہ چھوڑ کر کوفہ (عراق) منتقل ہو جاتے ہیں۔ یہاں یہ امر قابلِ غور ہے کہ علمِ جرح و تعدیل کے ماہرین نے بھی یہ تصریح کر رکھی ہے کہ ہشام کی وہ روایات جو انہوں نے عراق جا کر بیان کیں، وہ مدینہ کی روایات کے مقابلے میں ناقابلِ اعتماد ہیں کیونکہ بڑھاپے میں ان کا حافظہ متغیر ہو چکا تھا یا وہ عراقی راویوں کے اثر میں آ گئے تھے۔
محقق کا استدلال یہ ہے کہ اگر یہ واقعہ (نو سال کی عمر میں رخصتی) حقیقت میں رونما ہوا ہوتا، تو یہ مدینہ منورہ کے ابتدائی قانونی اور فقہی ڈھانچے کا لازمی حصہ ہوتا۔ مدینہ کے فقہاء، جو سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے قریبی امین اور پاسبان تھے، اس روایت سے مکمل طور پر خاموش ہیں۔ امام مالک کی “مؤطا”، جو مدینہ کے فقہی عمل کی عکاس ہے، اس روایت سے خالی ہے۔ یہ “سکوت کی دلیل” ثابت کرتی ہے کہ پہلی صدی ہجری کے مدنی معاشرے میں اس واقعے کا کوئی وجود نہیں تھا، بلکہ یہ بعد کی پیداوار ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ روایت گھڑی کیوں گئی؟ ڈاکٹر لٹل اس کے پیچھے سیاسی اور فرقہ وارانہ محرکات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ دوسری صدی ہجری کا زمانہ بنو امیہ کے زوال اور بنو عباس کے عروج کا دور تھا، اور اسی دور میں شیعہ اور سنی (یا اس وقت کے عثمانی اور علوی) گروہوں کے درمیان شدید علمی و سیاسی کشمکش جاری تھی۔ تحقیق کے مطابق یہ روایت غالباً اہلِ تشیع کے اس دعوے کو رد کرنے کے لیے وضع کی گئی کہ اہل بیت کو دیگر صحابہ پر فوقیت حاصل ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا کی کم عمری اور کنوارہ پن کو ایک غیر معمولی “فضیلت” کے طور پر پیش کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ وہ نبی کریم ﷺ کی سب سے محبوب اور ممتاز زوجہ تھیں، (اور امام علی کی طرح بچپن سے ہی رسول کے ساتھ تھیں) جس سے بالواسطہ طور پر ان کے والد حضرت ابوبکرؓ اور بھانجے عبداللہ بن زبیرؓ کی سیاسی حیثیت کو مضبوط کرنا مقصود تھا۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ یہ تحقیق ثابت کرتی ہے کہ سخت گیر تاریخی اصول یہ گواہی دیتے ہیں کہ “نو سالہ رخصتی” کا افسانہ دوسری صدی ہجری کے عراقی محدثین کی ایجاد ہے، جس کا حقیقتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ تحقیق اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ اگر اسلامی تاریخ کو عقیدت کی عینک اتار کر خالص علمی عدسے سے دیکھا جائے، تو حقیقت واضح ہوتی ہے۔
اس بات کی وضاحت طلب ہے؟
جواب
ہشام بن عروہ کی تمام روایات مؤطا میں موجود ہیں؟
کیا امام مالک نے مدنی روایات کا موطا میں احاطہ کیا ہے؟
یا یہ ان کا دعویٰ ہے؟
روایت گھڑنے کا دعویٰ بے بنیاد اور باطل ہے۔
اور یہ آخری سطور روافض کی زبان میں تحریر کی گئی ہیں.
ائمہ جھابذہ وعلل پر علل حدیث ایسے واضح تھیں جیسے سونار اور جوہر پر اصل اور نقل واضح ہوتے ہیں۔
ائمہ محدثین وعلل نے اس روایت کا کوئی انکار نہیں کیا ہے۔
بلکہ دیگر قرائن موجود ہیں جو ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا کی عمر کی تائید کرتی ہیں۔
ھشام بن عروہ کے علاوہ بھی ثقات نے یہ بات بیان کی ہے۔
اور ھشام پر اختلاط کا الزام محل نظر ہے۔
بلکہ اس بارے تمام اعتراضات و اشکالات بے بنیاد اور غلط ہیں ۔
غیر مسلم کبھی دین وشریعت اور اسلام کی مثالی شخصیات کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے۔
حفاظ دین کا کام رب العالمین نے ائمہ محدثین ،ائمہ اسلام سے لیا ہے اس لئے وہی سب سے زیادہ دین اسلام کے خیر خواہ اور اس کی تعبیر وتفسیر جاننے والے تھے اور وہی سب سے زیادہ ایمان وتقوی والے دنیا کے لالچ و حرص سے دور تھے جو ان کے عقیدہ و منہج کو ترک کرے گا وہ گمراہ ہو جائے گا۔
تحقیق حدیث کا معیار سند و متن اور ائمہ محدثین وعلل کے بیان کردہ اصول حدیث ،اصول شرعیہ منہج و تعامل ہے جو اس سے باہر نکلے گا وہ گمراہی پر کھڑا ہے۔
اس مسئلہ پر تفصیل وتحقیق پھر کبھی کر دیں گے جبکہ اہل علم وفضل نے اس مسئلہ پر کافی کچھ لکھ رکھا ہے۔
فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ
یہ بات بالکل درست ہے کہ اس مسئلے میں بہت سی باتیں بلا تحقیق، بدگمانی، قیاس آرائی اور تخمین پر قائم ہیں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بعض لوگ حکیم نیاز کی کتاب ہی کو بنیاد بنا کر گفتگو کرتے ہیں، حالانکہ ان اعتراضات کے جوابات اسی دور میں اہلِ علم نے دے دیے تھے، والحمد للہ۔
یہ کہنا کہ: جو روایت امام مالک لیں وہ لازماً صحیح ہو جاتی ہے خود ایک غلط مفروضہ ہے؛ یہ کوئی شرعی شرط نہیں۔ اسی طرح ہشام بن عروہ کے حوالے سے جو اعتراضات کیے جاتے ہیں، وہ بھی سراسر جھوٹ، بہتان اور علمی خیانت پر مبنی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان اعتراضات کا اپنا کوئی علمی وزن نہیں، بلکہ یہ وہی مستشرقین کے شبہات ہیں جو ہمیشہ سے اسلام کے خلاف سرگرم رہے ہیں۔
آج بدقسمتی سے انہی مستشرقانہ افکار کو ان کے فکری نمائندے مختلف ناموں اور اسالیب میں آگے بڑھا رہے ہیں، کبھی غامدی مکتب کی صورت میں، کبھی کسی اور عنوان سے۔ یہ سب لوگ دین، کتاب و سنت اور فہمِ سلف سے ہٹ کر خود ساختہ تعبیرات پیش کرتے ہیں۔
اس موضوع پر اہلِ حق علماء نے نہایت مضبوط اور علمی کام کیا ہے، جن میں خاص طور پر:ابو السلام محمد صدیق رحمہ اللہ کی کتاب کشف الغمۃ، سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ کی معرکہ الآرا کتاب سیرتِ عائشہؓ، سعودی عرب کی علمی کمیٹی کی شائع کردہ کتاب سیرتِ عائشہ، امن پوری رحمہ اللہ کی تحقیق، مولانا حسین میمن کی علمی کاوش۔
یہ تمام کام اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ اعتراضات نہ نئے ہیں، نہ مضبوط، اور ان کے جوابات کتاب و سنت اور فہمِ سلف کی روشنی میں پہلے ہی دیے جا چکے ہیں۔ لہذا یہ سارا شور و غوغا بدگمانی، اندازوں اور مستشرقانہ وسوسوں کے سوا کچھ نہیں، اور اہلِ علم کے نزدیک اس کی کوئی علمی حیثیت نہیں۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




