سوال (6508)

13 رجب کی تاریخ اور ولادتِ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے کیا کہنا چاہیں گے محترم؟

جواب

اس بارے میں کوئی حتمی اور یقینی رائے موجود نہیں ہے، تاہم بعض تاریخی مآخذ میں تیرہ رجب کا ذکر ملتا ہے۔ جہاں تک ‘مولودِ کعبہ’ ہونے کا تعلق ہے، تو خانہ کعبہ میں ولادت ہونا فی نفسہٖ کوئی (شرعی) فضیلت نہیں ہے، کیونکہ وہ مقامِ عبادت ہے نہ کہ جائے ولادت۔ مزید یہ کہ یہ بات مستند اسناد سے ثابت بھی نہیں۔ حضرت حکیم بن حزام کے بارے میں بعض روایات ملتی ہیں کہ ان کی ولادت وہاں محض اتفاقاً ہوئی تھی۔
حقیقت یہ ہے کہ اس عظیم شخصیت کا مقام و مرتبہ صحیح اور معتبر دلائل سے پہلے ہی واضح ہے؛ لہٰذا ایسی ضعیف اور ناقابلِ ثبوت روایات کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ ان کے اصل فضائل کتاب و سنت میں کثرت سے موجود ہیں۔ چنانچہ تیرہ رجب کی تاریخ کا ذکر صرف بعض تاریخی مصادر تک ہی محدود ہے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ بعثت نبوی سے دس سال قبل مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے، تاریخ کی تعیین نہیں ملتی، لیکن بعض حضرات 13 رجب کی تاریخ بتلاتے ہیں، تاہم یہ صرف اندازہ اور تخمینہ ہے اور ان حضرات نے جس واقعہ سے اندازہ لگا کر مذکورہ تاریخ پر استدلال کیا ہے، اس پر شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمہ اللہ نے رد کیا ہے۔ بعض حضرات نے یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی پیدائش بیت اللہ کے اندر ہوئی تھی، لیکن یہ قول بھی مرجوح ہے، راجح قول کے مطابق بیت اللہ کے اندر حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی اور شخص کی ولادت نہیں ہوئی۔
الاصابہ فی تمییز الصحابہ میں ہے:

“علي بن أبي طالب الهاشمي رضي الله عنه، بن عبد المطلب بن هاشم بن عبد مناف، القرشي الهاشمي أبو الحسن أول الناس، إسلاماً في قول كثير من أهل العلم. ولد قبل، البعثة بعشر سنين على الصحيح، فربي في، حجر النبي صلى الله عليه وسلم و لم يفارقه.” (العين بعدها اللام، ج 4، ص: 464، ط: دار الكتب العلمية)

فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ