سوال (6530)

جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہو کہ عمار بن یاسر کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا اور وہ باغی گروہ حضرت امیر معاویہ ہیں اور اگر ایسا ہے تو دلیل چاہیے۔

جواب

بخاری: 2812, بلاشبہ ثابت ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو ایک باغی گروہ شہید کرے گا۔
یہاں باغی گروہ سے مراد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا گروہ نہیں ہے بلکہ اس سے مراد خارجی ہیں۔

مستدرک حاکم: 2653 عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ قَالَ لَهُ وَلِابْنِهِ عَلِيٍّ: انْطَلِقَا إِلَى أَبِي سَعِيدٍ فَاسْمَعَا مِنْهُ حَدِيثَهُ فِي شَأْنِ الْخَوَارِجِ، فَانْطَلَقَا فَإِذَا هُوَ فِي حَائِطٍ لَهُ يُصْلِحُ، فَلَمَّا رَآنَا أَخَذَ رِدَاءَهُ، ثُمَّ احْتَبَى، ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُنَا حَتَّى عَلَا ذِكْرُهُ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: كُنَّا نَحْمِلُ لَبِنَةً لَبِنَةً، وَعَمَّارٌ يَحْمِلُ لَبِنَتَيْنِ لَبِنَتَيْنِ، فَرَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يَنْفُضُ التُّرَابَ عَنْ رَأْسِهِ، وَيَقُولُ: «يَا عَمَّارُ أَلَا تَحْمِلُ لَبِنَةً لَبِنَةً كَمَا يَحْمِلُ أَصْحَابُكَ؟» قَالَ: إِنِّي أُرِيدُ الْأَجْرَ عِنْدَ اللَّهِ، قَالَ: فَجَعَلَ يَنْفُضُ وَيَقُولُ: «وَيْحَ عَمَّارٍ، تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ» قَالَ: وَيَقُولُ عَمَّارٌ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْفِتَنِ،

حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے اور اپنے بیٹے علی سے کہا: تم دونوں ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس چلے جاؤ اور ان سے خوارج کے متعلق کوئی حدیث سن کر آؤ۔ ہم دونوں چل دیئے، حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اپنے باغ میں کام کر رہے تھے۔ جب انہوں نے ہمیں دیکھا تو اپنی چادر درست کر کے ہم سے باتیں کرنے لگ گئے حتیٰ کہ مسجد کے متعلق بات چل نکلی، وہ کہنے لگے: ہم ایک ایک اینٹ اٹھا رہے تھے جبکہ عمار دو دو اینٹیں اٹھا رہے تھے، جب رسول اکرم ﷺ نے ان کو دیکھا تو ان کے سر سے مٹی جھاڑتے ہوئے بولے: اے عمار! اپنے دوسرے ساتھیوں کی طرح تم بھی ایک ایک اینٹ کیوں نہیں اٹھا رہے؟ عمار نے جواباً کہا: میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اجر کا طلبگار ہوں۔ (ابوسعید) فرماتے ہیں: رسول اکرم ﷺ ( پھر ان کے سر سے ) مٹی جھاڑنے لگ گئے اور فرمایا: اے عمار! افسوس ہے کہ تجھے ایک باغی گروہ قتل کر دے گا۔ ابوعمار بولے: میں فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔
سندہ، صحیح
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے اس روایت کو خوارج کے متعلق بیان کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ بخاری: 2812 خوارج ہی کے متعلق ہے۔ ھذا ما عندی واللہ اعلم باالصواب

فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ