سوال (5424)

دو سوال ہیں۔ پہلا سوال یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد کا جو قرآن میں نام آیا ہے، آزر، تو کیا وہ اُن کے اصلی والد کا نام ہے یا چچا کا؟ اس پر اختلاف ہے نا، تو لوگ ہم سے سوال کرتے ہیں کہ قرآن میں جو ہے وہی صحیح ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں وہ چچا تھے، جیسے ایک عالم پہلے تقریر کرتا تھا، وہ بھی کہتا تھا کہ آزر چچا تھے، باپ نہیں، لیکن اب لوگ ہم سے بار بار پوچھتے ہیں کہ قرآن میں جو ہے، وہ مانیں یا نہیں؟

جواب

دیکھیں “اب” کا معنی چاچا لینا ممکن تو ہے، مگر یہ دوسرا اور بعید معنی ہے۔ جو پہلا اور اصل معنی ہے، وہ “باپ” یا “والد” ہی بنتا ہے۔
صحیح بخاری میں بھی ذکر ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام قیامت کے دن اپنے والد آزر سے ملاقات کریں گے، اور قرآن میں بھی یہی لفظ آیا ہے، تو اہل السنہ والجماعت، صحابہ، اہل حدیث کے ہاں یہی راجح بات ہے، کہ آزر ان کے والد ہی تھے۔ یہ عجیب بات ہے کہ کوئی ساری زندگی تبلیغ کرے اور والد کو چھوڑ کر صرف چاچا کو مخاطب کرے؟ یہ بھی سوچنے کی بات ہے۔ بعض لوگوں نے اس بات کو اچھالا ہے اور اس کے پیچھے بعض صحابہ دشمن عقائد ہیں۔ راجح بات ہے کہ آزر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد تھے، دلائل کی روشنی میں۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

استاد محترم ابراھیم کے والد کو زبردستی انکا چچا بنانے کے پیچھے بدعتیوں کی ایک اور مجبوری ہے میں چونکہ بریلوی بیک گراونڈ سے ہوں تو وہاں ہمیں محمد ﷺ کا نام آنے پہ انگوٹھے کے ناخن چومنے کی بات کی جاتی تھی اور وجہ یہ بتائی جاتی کہ رسول اللہ ﷺ کا نور آدم سے ہوتا ہوا صرف پاکیزہ ہستیوں سے ہوتا ہوا آپ ﷺ کے والدین تک پہنچا اس سلسلے میں بہت سی موضوع احادیث کو بیان کیا جاتا ہے انہیں میں منہاج القران والوں کی ویب سائیٹ پہ محی الدین قادری (طاہر القادری کے بیٹے) کے مضمون میں بھی روایت درج ہے کہ میرے نسب میں میرے کوئی بھی والدین کبھی برائی میں مبتلا نہ ہوئے، میں (یعنی میرا نور) ہمیشہ طاہر اور طیب پشتوں سے طاہر و طیب رحموں میں منتقل ہوتا چلا آیاحضرت عبداللہ بن عباسؓ سے مروی اس روایت سے روشنی ملتی ہے کہ آپ ﷺ سے عرض کیا گیا یارسول اللہ ﷺ ! آپ اس وقت کہاں تھے جب آدم علیہ السلام جنت میں تھے؟ تو آقا علیہ السلام نے فرمایا:
میں ان کی صلب میں تھا اور جس وقت انہیں زمین پر اتارا گیا تب بھی میں ان کی صلب میں تھا۔ پھر مجھے حضرت نوح علیہ السلام کی صلب میں کشتی میں سوار کیا گیا۔ پھر میں اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی پشت میں تھا، جب انھیں آگ میں ڈالا گیا۔ میرے نسب میں میرے کوئی بھی والدین کبھی برائی میں مبتلا نہ ہوئے، میں ہمیشہ طاہر اور طیب پشتوں سے طاہر و طیب رحموں میں منتقل ہوتا چلا آیا۔
اب ان روایات سے جب وہ نور محمدی کی پیدائش شروع سے ثابت کرتے ہیں اور انکے پاکیزہ ہستیوں سے ہونے کی ہی بات کرتے ہیں تو پھر آپ ﷺ کی پشت میں کسی کافر کا ہونا ممکن ہی نہیں پس اپنی اس جھوٹے عقیدہ کو بچانے کے لئے پھر انکو یہ ثابت کرنا پڑتا ہے کہ وہ جو جہنم میں ہوں گے وہ ابراھیم کے والد نہیں بلکہ کافر ہوں گے یعنی صحیح روایات اور قرآن کو حقیقی معنی کی بجائے مجازی معنی میں لینا انکی مجبوری ہے ورنہ انکا سارا نظریات کا محل دھڑام سے گر جائے گا۔

فضیلۃ العالم ارشد حفظہ اللہ