سوال (5984)
سینے پر ہاتھ باندھنے کی کوئی روایت حضرت علی یا اہلبیت سے مل جائے تو اس کا حوالہ سینڈ کر دیں؟
جواب
یہ شرطیں لگانا کہ روایت فلاں فلاں صحابی سے دیکھاؤ، اہل بیت سے دیکھاؤ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے دیکھاؤ، یہ دین سیکھنے کا طریقہ نہیں ہے، دین اپنی سند رکھتا ہے، جس بھی صحابی یا اہل بیت سے روایت منقول ہو، بشرطیکہ سند صحیح ہو تو بات ختم ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سورۃ الکوثر کی ایک آیت کو نماز میں سینے پر ہاتھ باندھنے کی تعلیم قرار دیا ہے، روایت ملاحظہ کیجیے:
عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ سَمِعَ عَاصِمًا الْجَحْدَرِيَّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ ظَبْيَانَ، عَنْ عَلِيٍّ {فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ} وَضْعُ يَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى وَسَطِ سَاعِدِهِ عَلَى صَدْرِهِ” [السنن الکبری، للبیھقی:جلد:2، صفحہ: 45، 46، حدیث، 2332، 2337، طبع دارالکتب العلمیۃ بیروت ۔ معرفۃ السنن والآثار، للبیھقی: 2979۔ الأوسط في السنن والإجماع والاختلاف، لابن المنذر: 1284]
علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کے متعلق امام ابن کثیر رحمہ اللہ کا قول ’’لا یصح عن علی‘‘ بیان کرنے کے بعد اسی روایت کے شاہد کے طور پر سنن ابی داؤد کی روایت بیان کی ہے، جس میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا عمل مذکور ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے نماز میں ناف سے اوپر ہاتھ باندھے،
عَنِ ابْنِ جَرِيرٍ الضَّبِّيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «رَأَيْتُ عَلِيًّا، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُمْسِكُ شِمَالَهُ بِيَمِينِهِ عَلَى الرُّسْغِ فَوْقَ السُّرَّةِ» [سنن أبی داؤد، کتاب الصلاۃ، باب وضع اليمنى على اليسرى في الصلاة، حدیث، 757]
شیخ زبیر علیزئی رحمہ اللہ نے اس روایت کو ضعیف روایات میں نقل نہیں کیا۔ اور اس روایت کو علامہ البانی رحمہ اللہ نے خود تو ضعیف قرار دیا ہے لیکن اس کے بارے میں بیان کیا ہے کہ امام بیھقی رحمہ اللہ نے اس روایت کو حسن قرار دیا ہے، اور پھر علامہ البانی مزید فرماتے ہیں:
“وھو کما قال، ان شاء اللہ، فان رجالہ کلھم ثقات، غیر ابن جریر الضبی…ووالدہ، وقد وثقھما ابن حبان”۔
(بات اسی طرح ہے جس طرح امام بیھقی رحمہ اللہ نے جیسا فرمایا ہے، اور ابن جریر الضبی اور اس کے والد کے علاوہ اس روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں، بلکہ ان دونوں کو بھی امام ابن حبان رحمہ اللہ نے ثقہ کہا ہے) [دیکھئے: اصل صفۃ صلاۃ النبی، جزء، 1، ص: 217، 218]
فضیلۃ العالم امان اللہ عاصم حفظہ اللہ




