سوال 6829
السلام عليكم و رحمة اللہ وبرکاتہ! ایک عورت کے اب تک چار بڑے آپریشن ہو چکے ہیں، جن میں آخری آپریشن کے بعد ڈاکٹر حضرات نے واضح طور پر تنبیہ کی ہے کہ آئندہ حمل کی صورت میں اس کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے اس کی جسمانی حالت نہایت کمزور ہو چکی ہے، صحت مسلسل گرتی جا رہی ہے اور طبی ماہرین کے مطابق مزید حمل اس کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
ایسی صورتِ حال میں، جبکہ مستند ڈاکٹر بھی یہ مشورہ دے رہے ہوں کہ دوبارہ حمل اس کی زندگی کے لیے خطرناک ہے، کیا شرعی طور پر اس عورت کے لیے مستقل طور پر حمل کی بندش (یعنی ہمیشہ کے لیے مانعِ حمل آپریشن) کروانا جائز ہے؟
براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہی اصولوں کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں بارک اللہ فیکم
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ دیکھیں مستقل طور پہ تو بندش نہ کروائیں، البتہ کچھ وقفہ جو طویل المیعاد ہوتا ہے، پانچ سال کا یا ایسا کچھ، وہ وقفہ لے لیا جائے۔ تو ممکن ہے اس کی صحت اچھی ہو جائے آگے چل کے۔ تو ہماری رائے یہی ہے فی الحال۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




