سوال 6642
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
شعبان میں پورے مہینے کے روزے رکھنے چاہییں اورکیا شعبان میں پورے سال کے نامہ اعمال پیش کیے جاتے ہیں؟
جواب
شعبان کے پورے مہینے کے روزے رسول اللہ ﷺ سے ثابت نہیں ہیں۔ البتہ یہ بات صحیح اور ثابت ہے کہ رمضان کے علاوہ جس مہینے میں آپ ﷺ سب سے زیادہ نفلی روزے رکھا کرتے تھے وہ شعبان کا مہینہ تھا۔ لہٰذا پورا مہینہ روزے رکھنا لازم نہیں، لیکن اکثر دنوں کے روزے رکھے جا سکتے ہیں۔
یہ بھی ملحوظ رہنا چاہیے کہ یہ نفلی روزے اس شخص کے لیے ہوں جو ان کی وجہ سے رمضان کے فرض روزوں یا دیگر فرائض سے غافل نہ ہو۔ اگر کوئی شخص نفلی روزوں اور شب بیداری میں مشغول ہو جائے، رات بھر عبادت یا کسی اور پروگرام میں مصروف رہے اور فجر کی فرض نماز چھوڑ دے، تو یہ عمل درست نہیں ہو سکتا، کیونکہ فرض عبادت نفلی عبادت پر ہر حال میں مقدم ہے۔
اسی طرح اگر نفلی روزوں کی کثرت کی وجہ سے رمضان کے روزے متاثر ہونے کا اندیشہ ہو تو پھر زیادہ نفلی روزے رکھنا مناسب نہیں۔
رہی یہ بات کہ شعبان میں اعمال اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کیے جاتے ہیں، تو اس بارے میں سنن نسائی اور سنن ترمذی میں روایت وارد ہوئی ہے، اور امید ہے کہ وہ حسن درجے کی ہے۔ اسی بنا پر رسول اللہ ﷺ نے شعبان میں کثرت سے روزے رکھے۔
واللہ تعالیٰ اعلم۔
فضیلۃ العالم حافظ علی عبداللہ حفظہ اللہ
وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
صرف رمضان المبارک کے روزے مکمل ماہ رکھنے فرض ہیں
شعبان میں ابتداء میں رکھ سکتے ہیں البتہ آخری ایام میں رکھنا چھوڑ دیں تا کہ رمضان المبارک کے روزے آسانی کے ساتھ رکھ سکیں۔
ماہ شعبان میں اعمال کا پیش ہونا کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے۔ اس متعلق خاص روایت کی صحت محل نظر اور صحیح حدیث کے مخالف ہے۔ تفصیل پہلے بیان ہو چکی ہے۔
فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ




