سوال (4072)
سوال ہے کہ جب ابلیس نے آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے انکار کیا اور قیامت تک مہلت مانگی اللہ تعالیٰ نے مہلت دی اور جنت سے نکال باہر کیا اس سے بعد آدم علیہ السلام کو جنت میں پھل کھانے پر شیطان نے کیسے قائل کیا شیطان تو جنت میں تھا ہی نہیں۔
جواب
بظاہر لگتا ہے جنت سے نکلنے کا حکم تینوں کو اکٹھا دیا گیا تھا یعنی وہ درخت کا پھل کھانے کے بعد تھا۔
واللہ اعلم
اس کے علاوہ وسوسہ کی بھی نفی نہیں ہے جیسا کہ رمضان میں شیاطین کے جکڑے جانے کے باوجود وسوسے کی نفی نہیں ہے۔
فضیلۃ الباحث اظہر نذیر حفظہ اللہ
سائل: قرآن میں صاف ہے سجدہ نہ کرنے پر ابلیس کو جنت سے نکال دیا گیا تھا اور یہ بھی واضح ہے کہ شیطان ہی درخت کی طرف رہنمائی اور پھل کھانے کا کہہ رہا ہے اور فوائد بھی بتارہا ہے۔
جواب: 1۔ اهبط، 2۔ فاخرج، 3۔ اذهب،
یہ تینوں لفظ سجدہ کے انکار کے بعد قرآن مجید میں آئے ہیں ، لیکن جب آدم علیہ السلام کو تو اتارنے کا حکم دیا تو اس وقت بھی اللہ نے جمع کا لفظ بولا جو کم از کم تین پر بولا جاتا ہے اس کا مطلب لگتا ہے کہ تب تک یہ وہیں پر تھا، یہ بھی اختلاف ہے کہ وہ جنت کون سی تھی وہ جنت خلد ہی ہے یا وہ کوئی اور جنت ہے اور وہ جنت آسمان میں تھی یا کہیں اور تھی مختلف اقوال ہیں ، سورۃ طہ میں واضح طور پر وسوسے کا لفظ ہے فوسوس اليه الشيطان اگے اللہ نے قال کا لفظ بولا ہے۔
قال يا ادم هل ادلك على شجره الخلد وملك لا يبلى
فضیلۃ الباحث اظہر نذیر حفظہ اللہ