سوال 7010

دو افراد کے درمیان ایک بات پر اختلاف ہوا۔ ایک نے اصرار کیا کہ آپ نے یہ بات کہی ہے، جبکہ دوسرے نے انکار کیا اور قسم کھا لی کہ اس نے یہ بات نہیں کہی۔ بعد میں اسے شک ہوا کہ شاید اس نے واقعی کہی ہو اور وہ بھول گیا ہو، تو اس نے بات مان لی۔ اب سوال یہ ہے کہ ایسی قسم، جو یقین کے بغیر کھائی گئی ہو، اس پر کفارہ لازم ہوگا یا نہیں؟

جواب

جو قسم اٹھائی گئی تھی، وہ دراصل یمینِ منعقدہ کے حکم میں تب آتی ہے جب آئندہ کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے پر ہو، اور اسی صورت میں کفارہ لازم ہوتا ہے۔ جبکہ یمینِ غموس پر کفارہ نہیں بلکہ توبہ ہے، اور قسمِ لغو پر بھی کفارہ نہیں ہوتا۔
یہاں چونکہ معاملہ ماضی کے کسی کام کے ہونے یا نہ ہونے کا ہے، اس لیے یہ قسم یا تو سچی ہو سکتی ہے یا جھوٹی۔ اگر بالفرض جھوٹی ہو تو اس کا حل صرف توبہ اور اللہ سے معافی طلب کرنا ہے۔
لیکن چونکہ قسم اٹھانے والے کو خود یقین ہی نہیں، بلکہ اسے شک ہے کہ اس نے وہ بات کہی بھی تھی یا نہیں، اس لیے اس پر کفارہ لازم نہیں ہوتا۔ اس حالت میں نہ اسے قطعی جھوٹی قسم کہا جا سکتا ہے، اور نہ ہی اس پر کوئی مواخذہ ہے۔
البتہ اگر بعد میں حقیقت واضح ہو جائے اور اسے یاد آ جائے کہ واقعی ایسا ہوا تھا، تو پھر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ لے۔ اس سے زیادہ اس پر کچھ لازم نہیں۔

فضیلۃ الشیخ محمد علی حفظہ اللہ