سوال (186)

اگر شلوار ٹخنوں سے نیچے ہو تو کیا وضو ہوجائے گا؟ اس بارے اگر کوئی دلیل ہے تو رہنمائی فرمائیں۔

جواب:

سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔

“بَيْنَمَا رَجُلٌ يُصَلِّي مُسْبِلًا إِزَارَهُ إِذْ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ اذْهَبْ فَتَوَضَّأْ، ‏‏‏‏‏‏فَذَهَبَ فَتَوَضَّأَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ جَاءَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ اذْهَبْ فَتَوَضَّأْ، ‏‏‏‏‏‏فَذَهَبَ فَتَوَضَّأَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ جَاءَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏مَا لَكَ أَمَرْتَهُ أَنْ يَتَوَضَّأَ ثُمَّ سَكَتَّ عَنْهُ؟ فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّهُ كَانَ يُصَلِّي وَهُوَ مُسْبِلٌ إِزَارَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَا يَقْبَلُ صَلَاةَ رَجُلٍ مُسْبِلٍ إِزَارَهُ”.[سنن ابي داؤد: 638]

’’ایک آدمی اپنا تہبند ٹخنوں سے نیچے لٹکائے ہوئے نماز پڑھ رہا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: جا کر دوبارہ وضو کرو، چناچہ وہ گیا اور اس نے دوبارہ وضو کیا، پھر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ فرمایا: جا کر پھر سے وضو کرو، چناچہ وہ پھر گیا اور تیسری بار وضو کیا، پھر آیا تو ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! کیا بات ہے! آپ نے اسے وضو کرنے کا حکم دیا پھر آپ خاموش رہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اپنا تہبند ٹخنے سے نیچے لٹکا کر نماز پڑھ رہا تھا، اور اللہ تعالیٰ ٹخنے سے نیچے تہبند لٹکا کر نماز پڑھنے والے کی نماز قبول نہیں فرماتا‘‘۔
اس روایت کی وجہ سے بعض اہل علم کو یہ بات سمجھ میں آئی ہے کہ ازار لٹکانے سے وضوء ٹوٹ جاتا ہے، صحیح بات یہ ہے کہ یہ نواقض وضوء میں سے نہیں ہے، باقی یہ عمل کبیرہ گناہ میں ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

شیخ البانی سمیت اکثر علماء کے نزدیک یہ حدیث ضعیف ہے اس لیے ان کے نزدیک ٹخنوں کے نیچے کپڑا لٹکنے سے وضو نہیں ٹوٹے گا۔ اگر یہ روایت صحیح بھی ہو تو یہ ایک تہدیدی حکم تھا اسی لیے اس کو جمہور علماء نواقض وضو میں شمار نہیں کرتے۔ واللہ اعلم

فضیلۃ الباحث اسداللہ بھمبھوی حفظہ اللہ

سوال: سنن ابی داؤد والی حدیث ضعیف ہے، جس میں ٹخنوں سے نیچے کپڑا لٹکانے کے حوالے سے وضوء کا اعادہ کا کہا ہے، تو کیا ٹخنوں سے نیچے جو کپڑا لٹکا کر نماز پڑھے اس کی نماز ہوجائے گی؟

جواب: روایت حسن درجے کی ہے، یہ امر بطور تنبیہ کے ہے، تاکہ لوگ آئندہ ایسے نہ کریں۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

جی ہاں یہ روایت علی الرجح ضعیف ہے۔
البتہ ازار لٹکا کر نماز پڑھنا باعث نقصان ہے۔

ملاحظہ کریں: ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﺩاﻭﺩ ﻗﺎﻝ: ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﻋﻮاﻧﺔ، ﻭﺛﺎﺑﺖ ﺃﺑﻮ ﺯﻳﺪ، ﻋﻦ ﻋﺎﺻﻢ اﻷﺣﻮﻝ، ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﻋﺜﻤﺎﻥ، ﻋﻦ اﺑﻦ ﻣﺴﻌﻮﺩ، ﺭﻓﻌﻪ ﺃﺑﻮ ﻋﻮاﻧﺔ ﻭﻟﻢ ﻳﺮﻓﻌﻪ ﺛﺎﺑﺖ ﺃﻧﻪ ﺭﺃﻯ ﺃﻋﺮاﺑﻴﺎ ﻋﻠﻴﻪ ﺷﻤﻠﺔ ﻗﺪ ﺫﻳﻠﻬﺎ ﻭﻫﻮ ﻳﺼﻠﻲ ﻓﻘﺎﻝ ﻟﻪ: ﺇﻥ اﻟﺬﻱ ﻳﺠﺮ ﺛﻮﺑﻪ ﻣﻦ اﻟﺨﻴﻼء ﻓﻲ اﻟﺼﻼﺓ ﻟﻴﺲ ﻣﻦ اﻟﻠﻪ ﻓﻲ ﺣﻞ ﻭﻻ ﺣﺮاﻡ

مسند أبي داود الطيالسي:(349) سنده صحيح موقوف
یعنی اس روایت کا موقوفا ہونا ہی راجح ہے جیسے امام ابو داود نے موصولا نقل کرنے کے بعد وضاحت کر دی ہے۔

ملاحظہ کریں: ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺯﻳﺪ ﺑﻦ ﺃﺧﺰﻡ، ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﺩاﻭﺩ، ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﻋﻮاﻧﺔ، ﻋﻦ ﻋﺎﺻﻢ، ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﻋﺜﻤﺎﻥ، ﻋﻦ اﺑﻦ ﻣﺴﻌﻮﺩ، ﻗﺎﻝ: ﺳﻤﻌﺖ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻳﻘﻮﻝ: ﻣﻦ ﺃﺳﺒﻞ ﺇﺯاﺭﻩ ﻓﻲ ﺻﻼﺗﻪ ﺧﻴﻼء ﻓﻠﻴﺲ ﻣﻦ اﻟﻠﻪ ﻓﻲ ﺣﻞ ﻭﻻ ﺣﺮاﻡ، ﻗﺎﻝ ﺃﺑﻮ ﺩاﻭﺩ: ﺭﻭﻯ ﻫﺬا ﺟﻤﺎﻋﺔ ﻋﻦ ﻋﺎﺻﻢ ﻣﻮﻗﻮﻓﺎ ﻋﻠﻰ اﺑﻦ ﻣﺴﻌﻮﺩ، ﻣﻨﻬﻢ ﺣﻤﺎﺩ ﺑﻦ ﺳﻠﻤﺔ، ﻭﺣﻤﺎﺩ ﺑﻦ ﺯﻳﺪ، ﻭﺃﺑﻮ اﻷﺣﻮﺹ، ﻭﺃﺑﻮﻣﻌﺎﻭﻳﺔ، سنن أبو داود :(637)

امام بزار نے کہا:

ﻭﻫﺬا اﻟﻜﻼﻡ ﻻ ﻧﻌﻠﻤﻪ ﻳﺮﻭﻯ ﺑﻬﺬا اﻟﻠﻔﻆ ﺇﻻ ﻋﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ، ﻭﻗﺪ ﺭﻭاﻩ ﻏﻴﺮ ﻭاﺣﺪ، ﻋﻦ ﻋﺎﺻﻢ، ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﻋﺜﻤﺎﻥ، ﻋﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﻣﻮﻗﻮﻓﺎ، ﻭﺃﺳﻨﺪﻩ ﺃﺑﻮ ﻋﻮاﻧﺔ، مسند البزار: (1884)

البتہ یہ روایت مرفوع کے حکم میں ہے کیونکہ ایسی بات اپنی ذاتی رائے اور اجتہاد سے نہیں کہی جا سکتی ہے۔ والله أعلم بالصواب

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ