سوال       6748

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ! شیخ سوال ہے ہم سعودیہ میں مکہ میں کام کرتے ہیں، اکثر جب چھٹی جاتے ہیں، واپسی پر احرام نہیں باندھتے ہیں، ویسے ہی آ جاتے ہیں، اور یہاں پہنچ کر بعد میں مہینے بعد یا اس سے پہلے عمرہ کرنا ہو تو لازم میقات پر جانا پڑے گا یا یہاں مسجد عائشہ یا جعرانہ یا حدود حرم سے نکل کر احرام باندھ کر عمرہ کر سکتے ہیں؟

جواب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ہماری اس سلسلے میں گزارش یہ ہے کہ جب اللہ نے عمرہ کا موقع دیا ہے تو نیت اور احرام کے ساتھ ہی داخل ہوں۔ اگر آپ مہینے بعد بھی عمرہ کرنا چاہیں تو کوئی اشکال نہیں، آخر میں بھی ٹھیک ہے۔ البتہ اگر کوئی عذر ہو جائے تو بغیر احرام بھی جا سکتے ہیں، کیونکہ احرام صرف عمرہ کے لیے ضروری ہے۔
باقی یہ سعادت ہے، اس کو کوشش کر کے حاصل کرنا چاہیے۔ مکہ میں رہنے والے یا کام کرنے والے حضرات کے لیے شرعی میقات واضح ہے۔ اقرب الحل یعنی سب سے قریبی حل پر عمل کریں، چاہے وہ مسجد عائشہ ہو یا تنعیم۔ اگر طائف جائیں تو واپسی پر قرن المنازل یا سیل کبیر سے احرام باندھیں۔
ہمارا موقف، ایک طالب علم ہونے کی حیثیت سے، یہ ہے کہ جو شرعی میقات مقرر ہے، اسی کی پیروی کی جائے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ