سوال (4733)

آج کل کے دور میں نکاح کے موقع پر اکثر کہا جاتا ہے کہ شرعیت کے مطابق حق مہر لکھ لیں پھر آپس کے مشورے سے 5 یا 10 ہزار طے کر لیا جاتا ہے، میرا سوال یہ ہے کہ شرعی حق مہر کتنا ہے، قرآن وحدیث کی روشنی میں تفصیلاً جواب دیں، اگر اس میں کوئی شرائط وغیرہ ہیں تو انکی تفصیل بیان کر دیں۔

جواب

شریعت نے حق مہر کے لیے کوئی مقدار متعین نہیں کی ہے، یہ بات آپ ان کو سمجھا دیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چند قرآنی سورتوں کو بطور حق مہر رکھ کر نکاح کروائے ہیں، باقی حق مہر ہوتا ہی شرعی ہے، یہ لڑکی، لڑکے یا دونوں کے بزرگوں کی باہمی رضامندی کے ساتھ طے ہوتا ہے، لڑکی کا مطالبہ اور لڑکے کی استطاعت دونوں کو مد نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ