سوال         6830

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ شیخ محترم ایک بندے کے پاس تقریباً 4 تولہ سونا ہے اس کے علاؤہ نقد رقم رقم باون تولے چاندی کی قیمت سے زیادہ ہے اب وہ زکوٰۃ کس طرح نکالے سونے کو بھی شامل کرے یا نقد رقم پہ زکوٰۃ ادا کرے؟ راہنمائی فرمائیں جزاکم اللہ خیرا کثیرا

جواب

دیکھیں، اگر سونے کو ملائیں گے تو نصاب کی مقدار پوری نہیں ہوگی، لیکن چاندی کو الگ کر دیں تو نصاب پورا ہو جائے گا۔ بہتر یہی ہے کہ آپ چاندی کی زکوٰۃ ادا کر دیں، کیونکہ چاندی کی مقدار نصاب تک پہنچ جائے گی۔
سونے کو جب چاندی کے ساتھ ملا لیں گے تو رقم اتنی بن جائے گی کہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی زکوٰۃ آپ آسانی سے ادا کر سکتے ہیں۔ لہذا ٹوٹل رقم کے حساب سے زکوٰۃ ادا کریں۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

سائل: محترم سونے کے علاؤہ اتنی رقم ہے کہ وہ چاندی کے نصاب کو پہنچ جاتی ہے اب کیا سونے کو بھی شامل کرنا ضروری ہے کہ صرف رقم پہ ہی زکوٰۃ ادا کی جائے؟
جواب: دیکھیں اس میں دو رائیں موجود ہیں، ایک تو یہ ہے کہ کرنسی کو ایک نئی شکل دے دیں اور ایک یہ ہے کہ کرنسی بدل ہے سونے یا چاندی کا۔ تو جب بدل ہے تو پھر ملانا جائز ہوگا۔ زیادہ علماء کا رجحان اسی طرف ہے کہ ملا دینا چاہیے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ