سوال          6818

نبیﷺ نے فرمایا: سود کا ایک درہم، جِسے جانتے بوجھتے بندہ اپنا لقمہ بناتا ہے؛ اللہ کے نزدیک، چھتیس زنا سے بدتر ہے!
(صحيح الترغيب: 1855)
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
یہ حدیث العلماء کے پیج پر ہے ،سوال یہ ہے کہ اس حدیث میں ایک درھم ہے تو درھم کا مختلف ممالک میں کرنسی کا مختلف معیار ہوگا ایران میں بہت زیادہ ہوگا مثلا ہمارے ملک میں 80 روپے کا ایک درہم ہے تو کیا اس سے کم سود مثلا 50 روپے تک کا جائز ہوگا؟
یا پھر یہاں درہم سے کیا مراد ہے ،کرنسی یا چاندی؟

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
احادیث میں جو درہم، دینار کا ذکر ملتا ہے اس سے مراد عرب ممالک میں رائج کاغذی کرنسی کے درہم و دینار نہیں۔ بلکہ اس میں سونے چاندی کا اعتبار کیا جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں دینار سونے کا اور درہم چاندی کے ہوتے تھے۔
موجودہ دور میں ایک درہم 2.975 گرام چاندی کے برابر شمار کیا جائے گا اور دینار 4.25 گرام سونے کا ہوتا ہے۔
لہذا حدیث میں حیض کے دوران بیوی سے دخول کا جو ایک یا نصف دینار کفارہ بیان کیا گیا ہے۔
(ابوداؤد#264, سندہ،صحیح)
یہ کفارہ بھی سونے کے اعتبار سے ہی ہے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم باالصواب

فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ

سائل: یعنی چاندی اس وقت تقریباً تین گرام تقریبا 2 ہزار روپے کی ہے تو سوال تو باقی رہا کیا دو ہزار سے کم سود لیا جا سکتا ہے کیونکہ حدیث میں ایک درہم ہے؟
جواب: اس روایت سے ہرگز مراد نہیں کہ ایک درہم سے کم سود لے سکتے ہیں۔ اس میں تو صرف یہ ذکر ہے کہ اگر ایک درہم جیسی معمولی مالیت کے برابر بھی سود لیا جائے تو اس کا وبال اتنا ہے۔
ورنہ سود ایک روپے سے بھی کم مالیت کا ہو ہر صورت میں حرام ہے۔ کلی طور پر سود کو حرام قرار دیا گیا ہے
(البقرہ#278، 279)
جس طرح خنزیر کا ایک لقمہ بھی حرام ہے اسی طرح سے سود کا ایک پیسہ بھی حرام ہے۔ کلی طور پر۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم باالصواب

فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ

سائل: اور کفارہِ جماع در حیض اس لحاظ سے 190000 روپے یا اس کا نصف بنتا ہے۔
حديث کے مطابق ربع دینار سے کم چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا یا ڈھال کی قیمت کے مطابق اور وہ بھی ربع دینار تھی۔
یعنی آج کل کے حساب سے 45 ہزار روپے کی چوری ہوگی تو سزا ملے گی ورنہ نہیں؟
جواب: جی ہاں، ایسے ہی ہے۔

فضیلۃ العالم فہد انصاری حفظہ اللہ