سوال (6441)
اگر دو متعاقدین کا بیع ایجاب وقبول تقریبا 3 سال پہلے ہو چکے اب وہ مشتری بیع فسخ کرنا چاہے کسی عیب کیوجہ سے تو کیا وہ وھی پرانا 3 پہلے والا قمیت بایع سے لے گا جو اس نے دی تھی یا موجود جو قمیت ہو وہ لے گا کیونکہ وقت کیساتھ قمیت بڑھ جاتی ہے؟
جواب
اسلام میں لین دین کا بنیادی اصول یہ ہے کہ جب ایک بار خرید و فروخت کا معاملہ مکمل ہو جائے، تو پھر مشتری یا بائع کے پاس یہ حق نہیں رہتا کہ وہ اپنی مرضی سے اسے ختم کر دے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سودا ہو جانے کے بعد چیز خریدار کی ملکیت بن جاتی ہے۔
اللہ کے نبی ﷺ نے ہمیں یہ اصول سمجھایا ہے:
«الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا»
یعنی: “جب تک بیچنے والا اور خریدنے والا ایک دوسرے سے الگ نہ ہوں، انہیں سودا منسوخ کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔” (صحیح بخاری: 2107)
مطلب یہ کہ جب تک آپ لوگ اس جگہ موجود ہیں جہاں سودا ہوا، اسے ختم کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ایک بار جب آپ اپنی اپنی راہ لے لیں، تو یہ سودا پکا (Binding) ہو جاتا ہے اور اسے توڑنا جائز نہیں رہتا۔
البتہ اگر بائع یا مشتری کسی مجبوری کا شکار ہو جائے اور دوسرا اس کی پریشانی دیکھ کر سودا ختم کرنے پر راضی ہو جائے، تو اسے شرعی اصطلاح میں ‘اقالہ’ کہتے ہیں۔ اس عمل کی اللہ کے ہاں بڑی قدر ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:
«مَنْ أَقَالَ مُسْلِمًا بَيْعَتَهُ، أَقَالَ اللَّهُ عَثْرَتَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
“جس نے کسی مسلمان کی درخواست پر سودا منسوخ کیا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی لغزشوں کو معاف فرما دے گا۔” (سنن ابی داؤد: 3460)
اگر آپ اس عظیم ثواب کی نیت سے سودا واپس کر رہے ہیں، تو اصول یہ ہے کہ آپ وہی قیمت واپس لیں گے جس پر سامان بیچا تھا (نہ کم، نہ زیادہ)۔ لیکن اگر آپ قیمت بدل کر یا کسی نئی شرط پر دوبارہ سودا کرنا چاہتے ہیں، تو فقہی اعتبار سے یہ ‘سودے کی منسوخی’ نہیں کہلائے گی، بلکہ اسے ایک ‘نئی بیع’ سمجھا جائے گا، جس میں آپ دونوں کی رضامندی سے نئی قیمت طے کی جا سکتی ہے۔ واللہ اعلم
فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ




