سوال        6812

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
شیخ محترم! قسطوں پر کاروبار کرنے کا کیا حکم ہے؟ خصوصاً بینک کے ذریعے قسطوں پر خرید و فروخت کرنا شرعاً جائز ہے یا حرام؟

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
بینک سے لین دین کا معاملہ نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ بینک بنیادی طور پر لین دین کا سادہ تجارتی ادارہ نہیں بلکہ ایسا نظام ہے جو سود پر قائم ہے، لوگوں کو سودی معاملات پر آمادہ کرتا ہے اور انہیں اس میں پھنسا دیتا ہے۔
البتہ اگر آپ عام دکان یا شوروم سے موٹر سائیکل، کار یا کوئی بھی چیز قسطوں پر خریدتے ہیں تو یہ جائز ہو سکتا ہے، بشرطیکہ تمام امور واضح طور پر طے کر لیے جائیں۔
مثلاً: یہ کون سا ماڈل ہے، کون سا کلر ہے، کل فائنل رقم کتنی ہوگی، ماہانہ پیمنٹ کتنی ہوگی، کتنے مہینوں یا سالوں میں ادائیگی مکمل ہوگی ہر چیز واضح اور تحریری طور پر فائنل کر لی جائے۔
مزید یہ کہ اس معاہدے میں لیٹ فیس یا اضافی سودی جرمانے کی شرط شامل نہ ہو۔
اگر تمام شرائط واضح ہوں اور سود یا غیر شرعی اضافہ شامل نہ ہو، تو اس طریقے سے قسطوں پر خرید و فروخت آپ کے لیے جائز ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ