سوال

ذیابیطس کے مریضوں کے لیے FreeStyle Libre 2 سینسر بازو پر چسپاں رہتا ہے (14 دن) اور اتارنا مشکل/نقصان دہ ہے۔

اس حالت میں وضو اور غسل (خاص طور پر غسل جنابت) کا شرعی حکم کیا ہے؟ کیا پانی سینسر کے نیچے پہنچانا ضروری ہے یا مسح کافی ہے؟ رہنمائی فرمائیں۔

جواب

الحمد لله وحده، والصلاة والسلام على من لا نبي بعده!

سوال میں مذکور شوگر چیک کرنے والا FreeStyle Libre 2 سینسر بازو پر چسپاں رہتا ہے اور عموماً چودہ دن تک لگایا جاتا ہے، جسے اس مدت سے پہلے اتارنا نہ صرف مشکل بلکہ بسا اوقات نقصان دہ بھی ہوتا ہے۔

اگر سینسر اتارنا مشکل ہو یا اس کے اتارنے میں جسمانی نقصان، تکلیف یا بیماری بڑھنے کا اندیشہ ہو تو وضو ہو یا غسلِ جنابت، اسے اتارنا ضروری نہیں۔ بلکہ اس کے اوپر سے پانی بہا دینا یا مسح کر لینا کافی ہے، ان شاء اللہ۔

یہ صورت بالکل اسی طرح ہے جیسے کسی زخم پر پٹی، ڈریسنگ یا مرہم (ڈامر وغیرہ) لگی ہو، جسے وقتی طور پر ہٹانا ناممکن یا نقصان دہ ہو۔ تو ایسی حالت میں زخم یا پٹی وغیرہ پر مسح کرنے کی گنجائش ہے، اور پانی کو اس کے نیچے پہنچانا لازم نہیں۔

یہ سینسر بھی چونکہ اس طرح چسپاں ہوتا ہے کہ پانی اندر پہنچ ہی نہیں سکتا، اور اسے اتارنا نقصان دہ ہے، اس لیے اس کا حکم بھی اسی پٹی اور ڈریسنگ والا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

“لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَهَا”. [البقرة: 286]

اللہ کسی جان کو تکلیف نہیں دیتا مگر اس کی طاقت کے مطابق۔

ایک اور مقام پر فرمایا:

“فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسۡتَطَعۡتُمۡ”. [التغابن: 16]

سو اللہ سے ڈرو جتنی طاقت رکھو۔

اسی طرح ایک اور مقام پر فرمان باری تعالیٰ ہے:

“وَمَا جَعَلَ عَلَيۡكُمۡ فِى الدِّيۡنِ مِنۡ حَرَجٍ‌ؕ”. [الحج: 78]

اللہ نے دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔

نبی کریم ﷺ کا ارشاد بھی ہے:

“إِنَّ الدِّينَ يُسْرٌ”. [صحیح البخاری: 39]

بے شک دین آسان ہے۔

لہٰذا ایسے مریض کے لیے شریعت کی طرف سے آسانی ہے، اور وہ وضو یا غسل کرتے وقت سینسر کے اوپر سے پانی گزار دے یا مسح کر لے تو اسکا وضو اور غسل درست ہوگا۔

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين

مفتیانِ کرام

فضیلۃ الشیخ  ابو محمد عبد الستار حماد حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ  عبد الحلیم بلال حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ جاوید اقبال سیالکوٹی حفظہ اللہ

فضیلۃ الدکتور عبد الرحمن یوسف مدنی حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ ابو عدنان محمد منیر قمر حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ مفتی عبد الولی حقانی حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ  محمد إدریس اثری حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ عبد الحنان سامرودی حفظہ اللہ