سوال (198)

کیا بارہ سنتوں جن کو سنت مؤکدہ کہا جاتا ہے، ان کی قضا دی جا سکتی ہے؟

جواب

تعداد کی بحث تو نہیں ہے لیکن قاعدہ یہ ہے کہ سنتوں کی قضاء دی جاسکتی ہیں، یہ عام فہم بات ہے کہ جب فرض کی قضاء دی جاسکتی ہے تو سنتوں کی بھی قضاء دی جا سکتی ہے، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی بعد والی سنتوں کی قضاء عصر کے بعد دی ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

سوال: نماز کی سنتوں کی ادائیگی کو اگر حدیث مبارک کے مطابق کریں گے تب ہی حدیث میں موجود فضیلت حاصل ہو گی؟ (جیسے فجر کی دو سنتوں کو نماز سے پہلے ادا کرنے سے فضیلت حاصل ہو گی یا جو بعد میں پڑھ لے تو وہ بھی فضیلت پا لے گا) (اسی طرح دن میں 12 سنتوں کی فضیلت، وہ حدیث میں بتائے گئے طریقہ کے مطابق یعنی ظہر سے پہلے 4 اور بعد میں 2 اسی طرح باقی نمازوں میں تو بعینہٖ پڑھنے سے فضیلت حاصل ہو گی یا پہلے والی سنتیں بعد میں ادا کرنے سے فضیلت حاصل ہو جائے گی؟

اسی طرح اگر کوئی شخص نماز ظہر سے پہلے والی سنتیں کسی ضروری کام کی وجہ سے یا سستی کی وجہ سے نماز ظہر کے بعد یا نماز عصر یا مغرب، عشاء کے بعد لے جاتا ہے سستی یا کسی مجبوری کی وجہ سے تو اس میں کس حد تک گنجائش ہے؟

قرآن وحدیث کی روشنی میں مسئلہ کی راہنمائی فرما کر عند اللہ ماجور ہوں۔

جواب: دین اسلام نے جو وقت اور طریقہ مقرر کیا ہے، اس پر عمل کریں، باقی سنتوں کی قضاء ہے، باقی اجر کا معاملہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے، فرائض میں بھی سارے نمازی اجر و ثواب برابر ہوتے ہیں، بس کوشش کریں جو شریعت وقت متعین کیا ہے، اس وقت پڑھیں، رہ جاتی ہے تو قضاء دے دیں۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ