سوال (472)

سورۃ الکھف جمعہ کے دن یا جمعے کی رات کو پڑھنا افضل ہے؟

جواب

“لیلةالجمعة” اور “يوم الجمعة” دونوں طرح الفاظ ملتے ہیں۔ اور دونوں روایات کو شیخ البانی رحمہ اللہ نے صحیحہ میں ذکر کیا ہے، جمعرات کے دن غروب آفتاب سے جمعہ کے روز غروب آفتاب سے پہلے جب میسر آجائے پڑھ لینی چاہیے۔

فضیلۃ الباحث نعمان خلیق حفظہ اللہ

جی پڑھ سکتے ہیں۔

فضیلۃ الباحث اظہر نذیر حفظہ اللہ

سوال: جمعہ کے دن سورۃ الکھف پڑھنا مسنون عمل ہے، ایک حدیث ہے ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ سے نور ہے، نیز ایک عالم دین کی پوسٹ تھی کہ جمعہ والی تخصیص ثابت نہیں ہے۔

جواب: بعض علماء کے نزدیک جمعے کی تخصیص صحیح نہیں ہے، وہ اس بات کو مانتے ہیں کہ جب بھی پڑھے گا، اس کو نور حاصل ہوگا، عموم پہ رکھا ہے، عموم میں جمعہ بھی شامل ہو۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

سوال: جمعہ کے دن سورت الکہف کی تلاوت کے بارے میں جو احادیث مروی ہیں ان کا کیا حکم ہے؟

جواب: خاص جمعہ کے دن سے جس طریق سے روایت مروی ہے وہ غیر محفوظ اور شاذ ہے، جبکہ صحیح اور محفوظ روایت اس کی مطلق تلاوت کرنا ہے یعنی ہفتہ بھر میں جب چاہیں تلاوت کریں اور فضیلت کو پا لیں۔

والله أعلم بالصواب

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ

سوال: جمعہ کے دن سورت الکہف کی تلاوت کے بارے میں جو احادیث مروی ہیں ان کا کیا حکم ہے؟

جواب: جواب: خاص جمعہ کے دن سے جس طریق سے روایت مروی ہے وہ غیر محفوظ اور شاذ ہے، جبکہ صحیح اور محفوظ روایت اس کی مطلق تلاوت کرنا ہے۔ یعنی ہفتہ بھر میں جب چاہیں تلاوت کریں اور فضیلت کو پا لیں۔ والله أعلم بالصواب

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ

سائل: اس گروپ کے بعض فتاوے میں شئیر کرتا ہوں لیکن یہ فتوی شئیر کرنے سے قوی امکان ہے کہ جو جمعے کے جمعے سورہ کہف کی تلاوت کر لیا کرتے تھے وہ اس تلاوت سے بھی رہ جائیں گے ،آج میں نے بھی عین مغرب سے کچھ پہلے یہ سوچ کے تلاوت کی کہ حدیث تو ضعیف ہے نہیں بھی پڑھو تو خیر ہے۔

شاید اسلاف متقدمین میں تواتر عملی اس پر موجود ہو؟ کہ رہی سہی کچھ جمعے کی تلاوت کی فضلیت تھی وہ باقی رہے۔۔ ایک اور مثال مغرب فجر کے بارے میں ترمذی میں غالبا روایت ہے کہ بعد از سلام پاؤں موڑنے سے پہلے لا الہ۔۔۔ قدیر تک پڑھنے کی فضیلت ہے۔۔ اس پر بھی عربی میں  ایک رسالہ زیر مطالعہ آیا کہ اس موضوع پر بھی ساری احادیث ضعیف ہیں۔۔۔ یعنی اکابر و اسلاف کے سارے عمل آہستہ آہستہ متروک یا بے وقعت ہوتے جارہے ہیں۔۔

جواب: جی بات ایسے نہیں ہے جیسے آپ سمجھ بیٹھے ہیں، مطلقا سورۃ الکہف پڑھنے کا ذکر کا مطلب یہ نہیں کہ جمعہ کو نہیں پڑھ سکتے بلکہ بتانا یہ مقصود تھا کہ خاص جمعہ کی قید لگانا راوی کا وھم ہے، اب ہفتہ کے کسی بھی دن کو اس سورت کی تلاوت کریں گے تو فضیلت حاصل ہو جائے گی۔ دوسری روایت میں موجود فضیلت کئ اسانید سے مروی روایت میں آئی ہے جسے بعض محققین نے ضعیف وغیر ثابت تو بعض نے علی الاقل حسن کے مرتبہ پر کہا ہے دونوں حکم اجتہادی ہیں اب آپ کو جس کی تحقیق پر زیادہ اطمینان ہے آپ اس پر عمل کر لیں۔ فضائل کے باب میں تو ائمہ محدثین نے بھی نرمی رکھی ہے، اگرچہ یہ مطلقا نہیں ہے، ہمیں الفاظ تول اور سمجھ کر بولنے چاہیے ہیں اہل علم وفضل محققین کی جماعت ہم سے زیادہ محتاط اور سلف صالحین کی قدردان ہے۔

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ