سورۂ یوسف سے تدبر کے چند پہلو
•─════﷽════─•
قرآن مجید کی سورتوں میں سورۂ یوسف کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ اس سورت میں صرف ایک نبی کی زندگی کا واقعہ بیان نہیں ہوا بلکہ انسانی نفسیات، تعلقات، آزمائشوں، محبت اور اخلاقی اصولوں کے بے شمار پہلو بھی سامنے آتے ہیں۔ جب اس سورت پر تدبر کیا جائے تو زندگی کے بہت سے حقائق واضح ہوتے ہیں۔ ذیل میں سورۂ یوسف سے حاصل ہونے والے چند اہم نکات پیش کیے جا رہے ہیں۔
🔰تہمت اور خاموشی🔰
تہمت لگائے جانے پر خاموش رہنے والا شخص لازم نہیں کہ مجرم ہی ہو، ممکن ہے کہ اس کی کوئی مجبوری اس کو خود کا دفاع کرنے سے روک رہی ہو۔
یوسف علیہ السلام کو دیکھو، ان کے بھائی ان کے منہ پر کہہ رہے ہیں:
إِن يَسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ أَخٌ لَّهُ مِن قَبْلُ
“یہ چوری کرے تو کچھ تعجب کی بات بھی نہیں، اس سے پہلے اس کا بھائی (یوسف) بھی چوری کر چکا ہے”
یوسف علیہ السلام ان کی بات سن کر غصے کے گھونٹ پی گئے، لیکن اپنا دفاع نہیں کیا، کیونکہ اس وقت اپنے معاملے کو راز میں رکھنا اپنا دفاع کرنے سے زیادہ بڑی مصلحت تھی۔
🔰محبت اور جدائی🔰
دل میں محبت سچی ہو تو جسمانی فاصلے اس کا کچھ بگاڑ نہیں پاتے۔
یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کو لگا یوسف کو باپ سے دور کردیں گے تو باپ کا دل یوسف کی محبت سے خالی ہو جائے گا، لیکن اس جدائی نے محبت کو اور بھی گہرا کردیا۔
جدائی کے بعد اپنے باپ کی حالت دیکھ کر خود کہتے ہیں:
تَاللَّهِ تَفْتَأُ تَذْكُرُ يُوسُفَ حَتَّىٰ تَكُونَ حَرَضًا أَوْ تَكُونَ مِنَ الْهَالِكِينَ
“قسم اللہ کی! آپ تو بس یوسف ہی کو یاد کیے جاتے ہیں نوبت یہ آ گئی ہے کہ اس کے غم میں اپنے آپ کو گھلا دیں گے یا اپنی جان ہلاک کر ڈالیں گے”
🔰ہر رونے والا مظلوم نہیں ہوتا🔰
کسی کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر حقائق سے لا پرواہ مت ہوجاؤ، ہر رونے والا مظلوم نہیں ہوتا۔
یوسف کے بھائیوں کو دیکھو، وہ بھی اپنے باپ کے پاس روتے ہوئے ہی آئے تھے۔
وَجَاءُوا أَبَاهُمْ عِشَاءً يَبْكُونَ
شام کو وہ روتے پیٹتے اپنے باپ کے پاس آئے۔
🔰محبت کی یادیں🔰
محبت بہت طاقتور چیز ہے، محبت سچی ہو تو یادیں دلوں میں پیوست ہوجاتی ہیں۔
یوسف علیہ السلام کو بچھڑے ہوئے تقریباً تیس سال ہوگئے، یعقوب علیہ السلام یوسف علیہ السلام کو بھولنا تو دور، ان کی خوشبو بھی نہیں بھولے:
وَلَمَّا فَصَلَتِ الْعِيرُ قَالَ أَبُوهُمْ إِنِّي لَأَجِدُ رِيحَ يُوسُفَ
جب یہ قافلہ (مصر سے) روانہ ہوا تو ان کے باپ نے (کنعان میں) کہا:
“میں یوسفؑ کی خوشبو محسوس کر رہا ہوں۔”
🔰اولاد کی تربیت کا اسلوب🔰
یعقوب علیہ السلام باپ تھے، حضرت یوسف سے بس اتنا کہہ دیتے کہ “بھائیوں سے خواب بیان مت کرنا” کافی تھا، بیٹا سمجھدار تھا اطاعت کرتا۔
لیکن انہوں نے حکم دینے پر اکتفا نہیں کیا، حکمت بھی بیان کردی:
فَيَكِيدُوا لَكَ كَيْدًا
تمھارے بھائی تمھارے خلاف سازش شروع کردیں گے۔
اس سے یہ سبق ملا کہ بچہ جب شعور کی عمر کو پہنچ جائے تو اس پر حکم چلانے کے بجائے اس کو قائل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ حکم کے ساتھ دلیل دینی چاہیے، اچھی چیز کا حکم دیں تو اس کے فوائد بھی بتائیں، بری چیز سے روکیں تو اس کے نقصانات سے بھی آگاہ کریں۔
اولاد کی تربیت کے لیے Instructions کے بجائے convincing کا method اپنانا چاہیے۔ یہ زیادہ مفید ہے، یہ سبق ہم کو حضرت یعقوب کی شخصیت سے ملتا ہے۔
🔰نعمت بھی آزمائش بن سکتی ہے🔰
ہم یوسف علیہ السلام جیسے حسن کی تمنا کرتے ہیں، لیکن سوچیں! یوسف علیہ السلام اس حسن کی وجہ سے جیسی آزمائش میں ڈالے گئے ہم میں سے کتنے لوگ ایسی آزمائش میں کامیابی سے باہر نکل سکتے ہیں جیسے حضرت یوسف باہر نکل آئے۔
تو کبھی کسی نعمت کا نہ ملنا بھی ایک نعمت ہوتی ہے۔
🔰عورتوں کی گفتگو اور انسانی نفسیات🔰
عورت خواہ بیوی ہو یا بیٹی، ماں ہو یا بہن، ہمیشہ “کوڈ ورڈ” میں بات کرتی ہے۔ اچھا مرد وہ ہے جو ان کی باتوں کو “ڈی کوڈ” کر لے۔
وہ خوش ہوتی ہیں اور ان کی آنکھوں میں آنسو بھرے ہوتے ہیں، ان کا دل غم سے چور ہوتا ہے اور ہونٹوں پر مسکراہٹ سجا لیتی ہیں۔ بظاہر تعریف کر رہی ہوتی ہیں لیکن لفظوں کے نشتر طعنوں کے زہر میں بجھائے ہوئے ہوتے ہیں۔ اور کبھی دل محبت کے جذبات سے لبریز ہوتا ہے اور زبان پر شکایتوں کا انبار لگا لیتی ہیں۔ دل میں “نہ” ہوتا ہے اور زبان سے “ہاں” بول رہی ہوتی ہیں، تو کبھی “ہاں” بول کر “نہ” مراد لے رہی ہوتی ہیں۔
جو دکھتی ہیں وہ ہوتی نہیں، جو ہوتی ہیں وہ دکھائی نہیں دیتیں، دل میں کچھ اور ہوتا ہے اور زبان پر کچھ اور۔ عورتیں ہر دور میں ایسی ہی رہی ہیں۔
مصر کی عورتوں کو دیکھو، بظاہر عزیز مصر کی بیوی کو طعنے دے رہی تھیں کہ “کیسی عورت ہے جو اپنے غلام پر ہی ریجھ گئی”، لیکن ان طعنوں کے پیچھے یہ تمنا چھپی تھی کہ “آخر کون ایسا غلام ہے جس کو دیکھ عزیز مصر کی بیوی بھی خود پر قابو نہ پاسکی، ہمیں بھی موقع ملے اس کو دیکھنے کا”۔
اس لیے قرآن نے ان کے طعنوں کو “مکر” سے تعبیر کیا ہے:
فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ
“اس نے جو اُن کی یہ مکارانہ باتیں سنیں”
جب نبی ﷺ کی وفات کا وقت قریب تھا، نبی ﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا:
“اپنے والد ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں۔”
حضرت عائشہ کو اندیشہ تھا کہ اگر نبی ﷺ کی وفات اسی حالت میں ہوگئی تو لوگ حضرت ابوبکر کی امامت کو نحوست سے جوڑ دیں گے، لیکن ڈائریک یہ بات نہیں کہی۔ نبی ﷺ سے کہا:
“میرے والد بہت نرم دل ہیں، وہ آپ کی جگہ امامت مصلے پر کھڑے ہوگئے تو سوائے رونے کے لوگوں کو اور کوئی آواز سنائی نہیں دے گی۔ کیوں نہ آپ حفصہ سے کہہ دیں کہ ان کے والد عمر نماز پڑھا دیں۔”
نبی ﷺ نے ان کی بات کان نہیں دھرا تو ساتھ میں حضرت حفصہ کو بھی لے آئیں اور وہی بات دہرائی۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے قدرے غضبناک ہوکر فرمایا:
“چپ رہو! تم لوگ بالکل ‘یوسف والیوں’ کی طرح ہو، ابوبکر سے کہو وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔”
اس پر حضرت حفصہ نے حضرت عائشہ سے فرمایا:
“تم سے کبھی میرا کوئی بھلا نہیں ہوا” (بخاری)
🔰نعمت سے محرومی بھی نعمت🔰
حضرت یوسف کو اللہ تعالیٰ نے حسن کی نعمت سے سرفراز فرمایا، لیکن یہ نعمت ہی ان کے لیے بہت بڑی آزمائش کا سبب بن گئی۔
وہ نبی تھے، اس آزمائش میں survive کر لے گئے۔ ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو اس جیسی کسی آزمائش میں خود کو بچا سکتے ہیں؟
تو کبھی کبھی کسی نعمت سے محرومی بھی اللہ کی نعمت ہوتی ہے کہ اللہ کو پتہ ہے کہ ہم کتنے کمزور ہیں اور کون کون سی نعمتیں ہمارے لیے فتنہ بن سکتی ہیں۔
تو بندے کو اللہ سے ہر حال میں اچھا گمان رکھنا چاہیے۔
🔰گپ شپ اور معاشرتی فساد🔰
دوسروں کی ذاتی زندگی کو اپنی گپ شپ (Gossip) کا موضوع بنانا بد کردار معاشرے کی علامت ہے۔ جس سماج کے لوگ اپنی آخرت سے بے فکر ہوتے ہیں اسی معاشرے میں دوسروں کی ذاتی زندگی لوگوں کی دلچسپی کا موضوع بن جاتی ہے۔
اور جب لوگوں کی ذاتی زندگیاں عام مجلسوں کا موضوع بنتی ہیں تو فتنے جنم لیتے ہیں، عزتیں نیلام ہوتی ہیں، حرمتیں پامال ہوتی ہیں، ایک سچ میں دس جھوٹ ملا کر تہمتوں کا ملغوبہ تیار کیا جاتا ہے، غیبت کی آگ پر اپنے بھائی کا گوشت بھونا جاتا ہے، چغلیوں کی لذت سے نفس امارہ کو تسکین فراہم کی جاتی ہے اور اپنے لیے جہنم کی آگ دہکائی جاتی ہے۔
عزیز مصر کی بیوی سے ایک غلطی سرزد ہوئی تھی، اگر مصری خواتین اس کو گفتگو کا موضوع نہیں بناتیں تو وہ شاید اتنی جری نہیں ہوتی یا کم از کم یہ فتنہ عزیز مصر کی بیوی تک محدود رہتا۔ لیکن جب عزیز مصر کی بیوی کی کرتوت مصری خواتین کی مجلسوں کا موضوع بن گئی تو عزیز مصر کی بیوی اپنے عمل کو جسٹفائی کرنے کے لیے عورتوں کی مجلس بلالی اور ایسی حرکت کی کہ اس کے ساتھ ساری خواتین فتنے کا شکار ہوگئیں اور حضرت یوسف کی آزمائش اور شدید ہوگئی۔
🔰نافرمانی سے نعمت نہیں ملتی🔰
باپ کی محبت اللہ کی نعمت ہے۔ یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے سوچا کہ یوسف علیہ السلام کو راستے سے ہٹا دیا تو باپ کی محبت پالیں گے، سو یوسف علیہ السلام کو اندھے کنویں میں پھینک آئے، لیکن باپ کی محبت پھر بھی نہیں پاسکے۔
پتہ چلا کہ اللہ کی نعمت اللہ کی نافرمانی کرکے کبھی حاصل نہیں کی جاسکتی۔
🔰مصیبتوں کو بھول جاؤ، نعمتوں کو یاد رکھو🔰
سعادت سے پر اور خوشحال زندگی کی کنجی یہ ہے کہ انسان ماضی کی مصیبتوں کو بھول جائے اور اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو یاد رکھے۔
حضرت یوسف علیہ السلام نے یعقوب علیہ السلام کے سامنے اپنی زندگی کی داستان بیان کی تو جیل میں ڈالے جانے کی مصیبت کا ذکر نہیں کیا، جیل سے نکالے جانے کی نعمت یاد فرمائی۔
وَقَدْ أَحْسَنَ بِي إِذْ أَخْرَجَنِي مِنَ السِّجْنِ (سورۂ یوسف، آیت 100)
میرے پروردگار نے مجھ پر (بہت سے) احسان کئے ہیں کہ مجھ کو جیل سے نکالا۔
🔰شر کی نسبت اللہ کی طرف نہیں🔰
اس گفتگو میں ایک خوبصورت نکتہ یہ بھی ہے کہ جیل سے نکالے جانے کی نعمت کا ذکر ہوا تو نسبت اللہ کی طرف کی، اور بھائیوں کی طرف سے پہنچنے والے “شر” کا ذکر آیا تو نسبت اللہ کی طرف نہیں شیطان کی طرف کی:
نَزَغَ الشَّيْطَانُ بَيْنِي وَبَيْنَ إِخْوَتِي ۚ (سورۂ یوسف، آیت 100)
شیطان نے مجھ میں اور میرے بھائیوں میں فساد ڈال دیا تھا۔
تو اللہ کی تعظیم کا تقاضہ یہ ہے کہ شر کی نسبت اس کی طرف نہ کی جائے۔
🖋۔۔۔ سرفراز فیضی حفظہ اللہ



