سوال (4739)
اگر کسی آدمی کی سستی کی وجہ سے نمازیں رہ جائیں تو ظہر عصر مغرب تو وہ کیسے قضائی دے گا؟
جواب
اگر کسی کی نمازیں رہ گئی ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے رجوع کرے، نمازوں کو بترتیب ادا کرنے کی کوشش کرے، باقی جماعت کی وجہ سے نمازیں آگے پیچھے ہو جائیں تو پھر خیر ہے، قصدا و ارادتاً ایسا نہ کریں، بس اللہ تعالیٰ کا مقروض ہوگیا ہے، بس نمازیں ادا کریں، لوگوں میں مشہور ہے کہ ظہر کل ظہر کے ساتھ، عصر کل عصر کے ساتھ یہ جاہلانہ تصور ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




