سوال

عورت کے لیے اسکی سوکن کی بیٹیوں کے شوہر محرم ہونگے یا نہیں اور ان بیٹیوں کے بیٹے؟

جواب

الحمد لله وحده، والصلاة والسلام على من لا نبي بعده!

سوتیلی ساس محارم میں سے نہیں ہے، جبکہ شوہر کے بیٹے محارم ہیں، لہذا شوہر کی بیٹیوں کے بیٹے بھی محرم ہیں۔ البتہ اس میں یہ  تفصیل کرنا لازمی ہے کہ اگر سوتن  پہلے شوہر کی اولاد اپنے ہمراہ لائی ہے، تو وہ سوتیلی ماں کے لیے غیر محرم قرار پائے گی اور اگر وہ اولاد اسی موجودہ شوہر سے ہے، تو وہ محرم ہوگی۔

صورتِ مسؤلہ میں اگر سوتن کی بیٹیاں پہلے شوہر سے ہیں تو پھر ان کے شوہر اور ان کے بیٹے  اپنی سوتیلی نانی/ ساس کے لیے غیر محرم قرار پائیں گے، لہذا پردے وغیرہ کے احکام کا خیال رکھنا ضروری ہو گا۔

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين

مفتیانِ کرام

فضیلۃ الشیخ  ابو محمد عبد الستار حماد حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ مفتی عبد الولی حقانی حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ  محمد إدریس اثری حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ ابو عدنان محمد منیر قمر حفظہ اللہ