سوال (157)

خاوند طلاق رجعی کے بعد صلح کی وجہ سے بیوی کو لینے کے لیے سسرال پہنچا ہے، اور شوہر نے یہ کہا ہے کہ میں اپنا گھر بسانا چاہتا ہوں، لیکن بیوی کے چچا نے اپنی بھتیجی کو چھوڑنے سے روک دیا ہے، اور اب پانچ ماہ کے بعد وہ چچا راضی ہوگیا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا شوہر کا پہلی مرتبہ جانا رجوع شمار کیا جائے گا یا تجدید نکاح ہوگا؟

جواب

اگر اس نے یہ کلمات رجوع کے طور پر لوگوں کو سنانے کے لیے استعمال کیے ہیں اور اس کا ارادہ رجوع کا تھا، تو رجوع بالقول ہوگیا ہے، اب اس کی بیوی آئی نہیں، کیونکہ اس کے چچا نے روک دیا، یہ الگ بات ہے ، اس میں خاوند کی کوئی غلطی نہیں۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

سوال: السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ محترم شیخ صاحب
ایک آدمی نے چار ماہ بیرون ملک سے اپنی بیوی کو طلاق لکھ کر بھیج دی اور ساتھ میں ایک مختار خاص ایمبیسی سے اٹیسٹڈ کروا کے بھیجا جس میں اپنے والد کو یونین کونسل میں طلاق کے فیصلے کا اختیار دیا اب وہ لڑکی والوں کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ ان دونوں کی بات چیت جاری ہے، اور لڑکے نے رجوع کا اعلان بھی کیا ہے لڑکی کو، وہ دونوں بطور میاں بیوی رہنے کے لیے تیار بھی ہیں، اور ساتھ کہا جا رہا ہے کہ لڑکے کا فیصلہ گھر والوں کے دباؤ کی وجہ سے تھا۔
ایسی صورت میں کیا طلاق واقعہ ہوگی اور ان کا رجوع بھی ہوگا یا نہیں اور والد کے مختار نامہ کی کیا حیثیت ہے؟ شرعی طور پر کیا حیثیت ہے کیا درست ہے؟
جواب: وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
طلاق تو اس وقت واقع ہو گئی تھی جب شوہر نے اسے جاری کیا، چاہے وہ لکھ کر بھیجی گئی ہو یا ابھی وصول نہیں ہوئی ہو۔ اب اگر عدت کے دوران شوہر نے رجوع کر لیا، چاہے ٹیلیفون یا بات چیت کے ذریعے، اور والد صاحب نے مختار نامہ استعمال نہیں کیا، تو اس رجوع سے طلاق کا اثر ختم ہو جاتا ہے اور بیوی دوبارہ اپنے شوہر کی ملکیت میں آ جاتی ہے۔
اس حالت میں: بیوی فارغ نہیں ہے۔ نکاح کی دوبارہ تجدید کی ضرورت نہیں۔ والد صاحب کا مختار نامہ بے اثر ہو جاتا ہے کیونکہ طلاق خود بخود ختم ہو چکی ہے۔ لہذا رجوع کے بعد وہ بدستور اپنے شوہر کی بیوی ہے، اور عدت کے اندر یہ عمل کافی ہے۔ واللہ أعلم.

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ