سوال 6633
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
ایک لڑکی کے والد نے اس کی ماں کو طلاق دے دی، ماں نے دھدیال سے رشتہ بالکل ختم کر دیا، اور اپنا نکاح کسی دوسرے آدمی سے بھی کر لیا۔ اب لڑکی کی ماں اس کی شادی کرنا چاہتی ہے اب لڑکی کا ولی کون ہو گا؟
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
شرعاً لڑکی کا ولی اس کا والد ہی رہتا ہے، کیونکہ طلاق کے باوجود وہ زندہ ہے اور اس کی ولایت ختم نہیں ہوتی۔ محض والدین کے باہمی تعلقات ختم ہو جانا ولایت کے زائل ہونے کی وجہ نہیں بنتا۔
البتہ اگر والد بلا وجہ رکاوٹ ڈالے، ضد اور ہٹ دھرمی اختیار کرے، یا صراحتاً ولایت سے انکار کر دے، تو ایسی صورت میں دوسرے شرعی پہلو پر غور کیا جا سکتا ہے۔ بہتر طریقہ یہ ہے کہ معزز افراد کو درمیان میں ڈال کر اس سے اجازت لی جائے۔
اگر والد خود نکاح کے لیے موجود نہ ہو لیکن اجازت دے دے، یا کسی شخص کو اپنا نمائندہ (وکیل) نامزد کر دے، تو جسے وہ نامزد کرے گا وہی اس نکاح میں ولی شمار ہوگا۔
فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ




