تمذہب، تقلید یا اتباع؟
اہل حدیث کا منہج
تحریر
ڈاکٹر عبید الرحمن محسن
1: مذاہبِ فقہ اسلامیہ کے تعارف کے ضمن میں، تمذہب اور تقلید دو بنیادی اصطلاحات عصر حاضر میں مروج ہیں۔ یہ بظاہر قریب معلوم ہوتی ہیں، مگر شیخ ڈاکٹر عبد السلام الشویعر جو کہ حنبلی تمذہب کے پر زور داعی ہیں، ان کے نزدیک اور دیگر تمذہب کے حامیوں کے نزدیک ان دونوں اصطلاحات میں بنیادی فرق ہے۔ مقصد اور ماہیت کے لحاظ سے
تمذہب سے مراد ایک مجتہد امام (جیسے ائمہ اربعہ) کے قائم کردہ فقہی مکتبہ فکر سے وابستہ ہونا ہے۔ یہ صرف قول کو اپنانا نہیں بلکہ اس نظام کے اصول، قواعد، اور دلائل کے طریق کار کو سیکھنا ہے۔ اس کا مقصد علمی سفر کو ایک منظم بنیاد فراہم کرنا ہے تاکہ طالب علم بالآخر دلیل کو پہچان سکے۔ اس کے برعکس، تقلید کسی عالم کا قول بلا دلیل قبول کرنے کا نام ہے۔
ایک دوسرا بنیادی فرق یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ علماء اور اہل اجتہاد بھی کسی مذہب سے متاثر ہوکر دلائل پہچان کر متمذہب ہو سکتے ہیں ۔جبکہ تقلید عوام الناس کے لیے ہے۔
ایک تیسرا فرق یہ بیان کرتے ہیں کہ تقلید ایک شخصیت کی ہوتی ہے جبکہ تمذہب ایک مکتب فکر اور فقہی مدرسہ کو اختیار کرنے کا نام ہے۔
2: ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ فرق محض لفظی نوعیت کا ہے۔اور حقیقت میں نتیجہ ایک ہی نکلتا ہے۔جسے تقلید کہا جاتا ہے۔
اور اس فرق کے پیچھے رد عمل کی نفسیات کار فرما ہیں ،جب سلفی الفکر لوگوں نے محنت کرکے امت کو دلیل ماننے مجبور کیا ،اور تقلید کے نتائج سے امت کو آگاہ کیا تو اپنے اپنے مذہب کے لیے دلائل تراشنے والے جدید دور کے فقہا نے تقلید ہی کو بہتر تعبیر دینے یا دوسرے لفظوں میں عوامی تقلید کی تہمت سے بچنے کے لیے تمذہب کی ایک نئی اصطلاح وضع کی۔
3: اگر دلائل میں ترجیح اور میلان کے پیش نظر آپ ایک قول کو اختیار کرتے ہیں تو یہ اتباع ہے، اسے تقلید یا تمذہب نہیں کہا جا سکتا۔
اور اگر آپ دلائل کی کی بنیاد پر اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ میں نے تمام مسائل میں حنبلی فقہ کو ہی فالو کرنا ہے کیونکہ اس کے اصول اجتہاد اور فروع دیگر فقہی مکاتب فکر کی بہ نسبت قرآن وسنت کے زیادہ قریب ہیں تو نام جو بھی دیں، نتیجہ یہی ہے کہ آپ نے دلائل اور اصول کی بنیاد پر پوری بصیرت کے ساتھ فقہ حنبلی کی تقلید کا راستہ چنا ہے۔
جو بھی کہیں، حقیقت بہرحال یہی ہے کہ آپ نے ایک شخصیت اور ایک ہی مکتب فکر کے اندر حق کو محصور کیا ہے۔
4: اہل حدیث مکتب فکر کی پوری محنت اور دعوت اس پر کھڑی ہے کہ اس امت کو سلف صالحین اور خیر القرون ک طرف لوٹائیں، اسی میں عافیت ہے ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو کتاب وسنت کے ساتھ جوڑا اور ایک وہ اعرابی جو بالکل بدویانہ اور صحرا کی زندگی جی رہا تھا،اسے بھی قرآن وسنت کے ساتھ وابستہ کیا۔ بس جیسے وہ تقلیدو تمذہب کے بغیر خیر القرون کا درجہ پاگئے ،امت کے لیے اسی میں خیر اور عافیت ہے۔
5: دقت نظری سے جائزہ لیا جائے تو حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے خلفائے راشدین اور پھر سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے
ابن عمر، ابن مسعود، ابن عباس، ابوہریرہ، جیسی مبارک ہستیوں کے فقہی اجتہادات میں ہمیں تفاوت نظر آتا ہے۔
اس کے باوجود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یا خلفائے راشدین نے امت کو منضبط کرنے کے لیے کسی ایک صحابی کے اجتہادات کا پابند نہیں کیا۔
بس سلف کا یہی راستہ اہل حدیث منہج فکر کی دعوت ہے اور اسی میں خیر وبرکت ہے۔
6: اس راستے کو چھوڑ کرجب بھی انضباط اور نظم کے نام پر تقلیدی روش کو فروغ دیا گیا امت فرقوں میں بٹ گئی، تعصبات نے راستے بنائے اور جمود نے ڈیرے ڈال دئیے۔
7: قائلین تقلید کی یہ ساری کاوش جو نظم ونسق اور تقنین کے نام پر ہوئی، اس وقت بے اثر ہوگئی جب عقائد کے باب میں ایک ہی فقہی مکتب فکر کے لوگ اشعریت، ماتریدیت اور اعتزال کی پگڈنڈیوں میں منتشر ہوگئے اور حیران کن بات یہ ہے کہ تصوف و زہد کے میدان میں مزید سلسلوں اور نسبتوں میں تقسیم در تقسیم ہو گئے ۔انسان بھی کتنا کمزور ہے اور کیسے عجیب فیصلے کر بیٹھتا ہے کہ جس شخصیت کی فقہ میں تقلید کی اسے عقائد میں قابل اعتناء نہ سمجھا اور نہ ہی اس سے تزکیہ وسلوک کا سبق لینا گوارا کیا!!
8: اہل حدیث مکتب فکر نے یہاں بھی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ سر انجام دیا اور
فقہ کے باب جن سلف کے دامن عقیدت سے وابستہ ہوئے، عقیدے اور تزکیہ کی راہوں میں بھی انہی سلف سے دامن گیر ہوئے۔
اسی طرز فکر کو سلفیت ،سنیت اور اہل حدیثیت کہتے ہیں۔
اس تناظر میں سلفیت خیر القرون کا منہاج ہے اور تمذہب وتقلید بعد کے ادوار کی بدعت ہے۔
9: باقی تمذہب کو جس خوب صورت لبادے میں تعلیمی مقاصد اور فقہی مہارت کے نام پر پیش کیا جارہا ہے وہ در حقیقت ہے تقلید ہی۔
اگر فقہی مہارت اور تخصص و تعلیم کی ضرورت کے پیش نظر کسی ایک فقہی متن کو بنیاد بنایا جائے اور معلم ومتعلم تقلیدی ذہن سے آزاد اور اتباع کے داعی ہوں تو اسے تمذہب کہنا لغتا، عقلا، شرعا اور عرفا کسی لحاظ سے بھی درست نہیں ہے۔
اس لحاظ سے تو خود ائمہ اربعہ کے مابین تعلیم وتعلم کا رشتہ موجود ہے تو کیا انہیں بھی متمذہب کہا جائے گا؟
یہی وہ حریت فکر ہے جس کے تحت ہمارے اہل حدیث مدارس میں شروع ہی سے فقہ حنفی سبقا سبقا پڑھائی جاتی ہے۔
تاہم کچھ اساتذہ اسے تعلیم کی بجائے تنفیر کے انداز میں پڑھاتے ہیں اور کچھ اسے ایک فقہی مکتب فکر کے نظر سے احترام کے ساتھ دیکھتے ہیں ،سید نذیر حسین محدث دہلوی جیسے اکابر کا یہی طرز عمل ہے۔
اور ہمارے رجحان کے مطابق یہی درست راستہ اور صحیح راہ عمل ہے۔
البتہ بعض افاضل نے اس بنیاد پر سید نذیر حسین محدث دہلوی رحمہ اللہ جیسی شخصیت کو حنفی اہل حدیث قرار دے کر سخت نا انصافی کی ہے اور ہمارے نزدیک یہ اسی طرح غلط تعبیر ہے جس طرح امام شافعی کو امام مالک سے تلمذ اور امام ابو حنیفہ کے مکتب فکر سے خوشہ چینی کی بنا پر شافعی مالکی حنفی کہنا غلط ہے۔
یہ خلاف حقیقت ہے اور مضحکہ خیز بھی۔
کسی مکتب فکر کو جذبہ اتباع کتاب وسنت اور حریت فکر کے ساتھ سیکھنا سکھانا اور چیز ہے،یہ تخصص اور تعلم ہے فقط جبکہ اسی میں حق کو منحصر سمجھ کر اختیار کرلینا یہ اور چیز ہے اور اسے تمذہب یا تقلید کہا جاتا ہے۔
بعض فاضل دوستوں نے اس میں فرق نہ کرکے خلط مبحث سے کام لیا ہے۔
10: باقی ہمارے ایک فاضل بھائی نے جو فاضلین مدینہ کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ تمذہب کے قائل ہیں یہ سراسر غلط فہمی ہے اور ان کو قریب سے نہ دیکھنے کا نتیجہ ۔میرے بڑے بھائی جان ڈاکٹر حافظ عبدالرحمن یوسف حفظہ اللہ مدینہ یونیورسٹی کے اولین فاضلین میں سے ہے ،میرے مشایخ میں سے شیخ یونس بٹ رحمہ اللہ، شیخ محترم حافظ محمد شریف صاحب اور جدید فاضلین میں سے بیسیوں دوست احباب میں سے کوئی ایک بھی تمذہب کا قائل و فاعل نہیں ہے۔ ممکن ہے سوشل میڈیا کے کسی حنبلی ایکٹوسٹ سے متاثر ہو کر یہ رائے اپنا لی گئی ہو لیکن اسے فاضلین سے منسوب کرنا درست نہیں ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم۔
یہ بھی پڑھیں:انجینئر محمد علی مرزا کی گرفتاری اور علما کے متضاد احساسات!




